انصاف بھی کچھ چیز ہے اور عقل بھی کوئی شے قابل لحاظ ہے تو یا تو ایسی دلائل صدق اور راستی کی کہ جن پر قرآن شریف مشتمل ہے جن کو ہم فصلِ اوّل سے لکھنا شروع کریں گے۔ کسی اپنی کتاب سے نکال کر دکھلاﺅ اور یا حیا اور شرم کی صفت کو عمل میں لاکر زبان درازی چھوڑو۔ اور اگر خدا کا کچھ خوف ہے اور نجات کی کچھ خواہش ہے تو ایمان لاﺅ اب یہ مقدمہ ختم ہوگیا اور جس قدر ہم نے مطالب بالائی لکھنے تھے سب لکھ چکے بعد اسکے اصل مطلب کتاب کا شروع ہوگا اور دلائل حقیت قرآن شریف اور صدق نبوت آنحضرت کی بسط اور تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔ اور وہ تمام براہین کہ جنکی سچائی کے اعلیٰ مرتبہ پر نظر کرکے دس ہزار روپیہ کا اشتہار کتاب ہذا کے شامل کیا گیا ہے خود فرقان مجید میں سے نکال کر دکھلائی جائیں گی۔ اور یہ طرز دلائل عقلیہ پیش کرنے کی کہ جسکا خاص کلام الٰہی کے بیان پرحصر رکھا گیا ہے یہ ہم میں اور ہمارے مخالفین میں ایک ایسا صاف فیصلہ ہے کہ جو ہریک عقلمند کی آنکھ کھول دینے کو کافی ہے اور ایک ایسی رہنما روشنی ہے کہ جس سے جھوٹوں اور سچوں میں نہایت آسانی سے فرق کھل جائے گا۔ سو اب اے حضراتِ منکرین اسلام اگر آپ لوگوں کو حقیت قرآن شریف میں کچھ کلام ہے یا اسکی افضلیت ماننے میں کچھ تامل ہے تو آپ پر فرض ہوچکا ہے کہ ان دلائل اور براہین کا اپنی اپنی کتابوں میں سے عقلی طورپر جواب دیں ورنہ آپ لوگ جانتے ہیں اور ہر ایک منصف جانتا ہے کہ جس کتاب کی صداقت اور افضلیت صدہا دلائل سے ثابت ہوچکی ہو تو پھر اسکو بغیر توڑنے دلائل اسکی کے اور بغیر پیش کرنے ایسی کتاب کے جو کمالات میں اس سے برابر ہو افترا انسان کا سمجھنا اور توہین کرنا ایک ایسا نامنصفانہ فعل ہے کہ جو صفت حیا اور شرم اور پاک اخلاقی سے بالکل بعید ہے۔ اور اس جگہ ہم اس بات کو بھی کھول کربیان کردیتے ہیں کہ جوصاحب بعد اشاعت اس کتاب کے