راستبازوں کی طرح اس کی دلائل کے توڑنے کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یونہی اپنے رسالوں اور اخباروں اور تقریروں اور تحریروں میں عوام کو دھوکا دینے کے لئے اسلام کے چشمہ پاک کا کدورت ناک ہونا بیان کریں یا اپنے گھر میں ہی تعلیم فرقانی کو قابل اعتراض ٹھہراویں تو ایسے صاحب خواہ عیسائی ہوں خواہ ہندو خواہ برہمو سماج والے یا کوئی اور ہوں بہرحال یہ فعل ان کا دیانت اور پاک طینتی کے برخلاف سمجھا جائے گا۔ کیونکہ جس حالت میں ہم دلائل قاطعہ سے حقیت اور صداقت فرقان مجید کی بخوبی ثابت کرچکے اور سارے اعتراض کو تہ اندیشوں اور ناقص عقلوں کے دفعہ اور دور کئے گئے اور اتماماً للحجتہ جواب دینے والوں کو زرکثیر دینے کا وعدہ بھی دیا گیا کہ اگر چاہیں تو اپنے دل کی تسلی کے لئے بہ رجسٹری سرکار تمسک بھی لکھا لیں تو پھر باوجود ہماری ایسی صداقت اور اس درجہ کی صاف باطنی کے اگر اب بھی کوئی شخص یہ سیدھا راستہ بحث اور مناظرہ کا کہ جس میں غالب آنے سے اس قدر مفت روپیہ ملتا ہے اختیار نہ کرے اور اس کتاب کے مقابلہ سے بھاگ کر جاہلوں اور لڑکوں اور عوام کے بہکانے کے لئے جھوٹے الزام اسلام پر لگاتا رہے تو بجز اس کے اور کیا سمجھیں جو اس کی نیت میں ہی فساد اور اس کی طینت میں ہی خلل ہے۔ صاحبوتعصب کو چھوڑو اور حق کو قبول کرو۔ آﺅ کچھ خدا سے ڈرو یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں اس پر فریفتہ مت ہو۔ یہ چند روزہ زندگی مزرعہ ¿ آخرت ہے۔ اس کو باطل عقیدوں اور جھوٹے خیالوں میں ضائع مت کرو یہ