دنیا کے فرقوں کی مقدس کتابیں مطالعہ کی تھیں۔ پس اگر قرآن شریف کا نازل کرنے والا خدا نہیں ہے تو کیونکر اس میں تمام دنیا کے علوم حقہ الٰہیہ لکھے گئے اور وہ تمام ادلہ کاملہ علم الٰہیات کی کہ جن کے باستیفا اور بصحت لکھنے سے سارے منطقی اور معقولی اور فلسفی عاجز رہے اور ہمیشہ غلطیوں میں ہی ڈوبتے ڈوبتے مر گئے وہ کس فلاسفر بے مثل و مانند نے قرآن شریف میں درج کردیں اور کیونکر وہ اعلیٰ درجہ کی مدلل تقریریں کہ جن کی پاک اور روشن دلائل کو دیکھ کر مغرور حکیم یونان اور ہند کے اگر کچھ شرم ہو تو جیتے ہی مر جائیں ایک غریب اُمّی کے ہونٹوں سے نکلیں اس قدر دلائل صدق کی پہلے نبیوں میں کہاں موجود ہیں۔ آج دنیا میں وہ کون سی کتاب ہے جو ان سب باتوں میں قرآن شریف کا مقابلہ کرسکتی ہے کس نبی پر وہ سب واقعات جو ہم نے بیان کئے مثل آںحضرت کے گزرے ہیں بالخصوص جو وید کے الہام یافتہ رشی قرار دیئے جاتے ہیں ان کا تو خود وجود ہی ثابت نہیں ہوتا قطع نظر اس سے کہ کوئی اثر صدق کا ثابت ہو۔ صاحبو اگر آپ لوگوں کے نزدیک