ہوا۔ کیا کسی جگہ قرآن شریف یا انجیل یا توریت میں وید کی طرح اگنی کی پرستش کا حکم پایا جاتا ہے یا کہیں وایو اور جل کی مناجات لکھ دی ہے یا کسی مقام میں اکاش اور چاند اور سورج کی حمد وثنا کی گئی ہے یا کسی آیت میں اندرکی مہما اور برنن کرکے اس سے بہت سی گوئیں اور بے انتہا مال مانگا گیا ہے۔ اور اگر ان چیزوں میں سے جو وید کا لب لباب اور اس کی ساری تعلیموں کا خلاصہ ہیں کچھ بھی نہیں لیا گیا تو پھر وید میں سے کیا چورایا۔ اور اس جگہ ہمیں پنڈت دیانند صاحب پر بڑا افسوس ہے جو وہ توریت اور انجیل اور قرآن شریف کی نسبت اپنے بعض رسالوں اور نیز اپنے وید بھاش کے بھومکا میں سخت سخت الفاظ استعمال میں لائے ہیں اور معاذ اللہ وید کو کھرا سونا اور باقی خدا کی ساری کتابوں کو کھوٹا سونا قرار دیا ہے۔ سارا باعث ان واہیات باتوں اور بیہودہ چالاکیوں کا یہ ہے کہ پنڈت صاحب نہ عربی جانتے ہیں نہ فارسی اور نہ بجز سنسکرت کے کوئی اور بولی بلکہ اردو خوانی سے بھی بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہیں۔ اور ایک اور بھی باعث ہے جو ان کی نو تصنیف کتابوں کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ علاوہ کم فہمی اور بے علمی اور تعصب کے ان کی فطرتی سمجھ بھی سودائیوں اور وہمیوں کی طرح وضع استقامت پر قائم ہونے اور صراط مستقیم پر ٹھہرنے سے نہایت لاچار ہے اور نیک کو بدخیال کرنا اور بد کو نیک سمجھنا اور کھرے کو کھوٹا اور کھوٹے کو کھرا قرار دینا اور الٹے کو سیدھا اور سیدھے کو الٹا جاننا ان کی ایک عام عادت ہوگئی ہے۔ جو ہر جگہ بلااختیار ان سے ظہور میں آتی ہے اور اسی وجہ سے وید کی وہ تاویلیں جو کبھی کسی کی خواب میں بھی نہیں آئی تھیں وہ کرتے جاتے ہیں اور پھر ان بے بنیاد خیالات کو چھپوا کر لوگوں سے اپنی رُسوائی کراتے ہیں۔ اور اگرچہ سارے ہندوستان کے پنڈت شور مچا رہے ہیں جو ہمارے وید میں توحید کا نام و نشان نہیں اور ہمارے باپ دادوں نے یہ سبق کبھی پڑھا ہی نہیں اور وید نے ہم کو کسی جگہ مخلوق پرستی سے منع کیا ہی نہیں۔ مگر پنڈت جی پھر بھی اپنے