کہ جو لوگ اس تحقیق اور تدقیق کے مالک ہیں اور جن کے وید مقدس میں بجز آگ اور ہوا اور سورج اور چاند وغیرہ مخلوق چیزوں کے خدا کا پتہ بھی مشکل سے ملتا ہے وہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاءکو مفتری ٹھہراویں اور ان کے ادوار مبارک کو مکر اور فریب کے دور قرار دیں اور ان کی کامیابیوں کو جو تائید الٰہی کے بڑے نمونہ ہیں بخت اور اتفاق پر حمل کریں اور ان کی پاک کتابیں جو خدا کی طرف سے عین ضرورتوں کے وقتوں میں ان کو ملیں جن کے ذریعہ سے بڑی اصلاح دنیا کی ہوئی وہ وید کے مضامین مسروقہ خیال کئے جائیں۔ اور تماشا یہ کہ اب تک یہ پتہ نہیں دیا گیا کہ کس طور کے سرقہ کا ارتکاب