خیالی پلاﺅ پکانے سے باز نہیں آتے اور ان صدہا دیوتوں کو جو وید کے متفرق معبود ہیں صرف ایک ہی خدا بنانا چاہتے ہیں کہ تاوید کے الہامی ہونے میں کچھ فرق نہ آجائے۔ بہرحال جو کچھ انہوں نے وید پر دست درازی کی اور کررہے ہیں یہ تو ان کا اختیار ہے۔ مگر قرآنِ شریف کی نسبت ناحق ہتک اور توہین کرنا یہ وہ کام ہے کہ جس سے ان کی سخت رسوائی ہوگی۔ چنانچہ اس کتاب کی تصنیف سے وہ دن آبھی گیا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اب پنڈت صاحب صدہا دلائل حقیت اور افضلیت قرآن شریف کی اور صدہا ادلہ بطلان اصول وید کے کتاب ہذا سے بذریعہ کسی لکھے پڑھے آدمی کے معلوم کرکے پھر بھی جیتے رہیں گے یا خودکشی کا ارادہ جوش مارے گا۔ کیا غضب کی بات ہے کہ قرآن شریف جیسی اعلیٰ اور افضل اور اتم اور اکمل اور احسن اور اجمل کتاب کی توہین کرکے نہ عاقبت کی ذلت سے ڈرتے ہیں اور نہ اس جہان کے طعن و تشنیع کا کچھ اندیشہ رکھتے ہیں۔ شاید ان کو دونوں عالم کی کچھ پروا نہیں رہی۔ اگر خدا کا کچھ خوف نہیں تھا تو بارے دنیا کی ہی رسوائی کا کچھ خوف کرتے۔ اور اگر شرم اور حیا اٹھ گیا تھا تو کاش لوگوں کے ہی لعن طعن کا اندیشہ باقی رہتا۔ اور اگر پنڈت صاحب کا کچھ مادہ ہی ایسا ہے کہ وہ ناحق خدا کے مقدس رسولوں کی توہین کرکے خوش ہوتے ہیں اور کچھ خو ہی ایسی ہے کہ سنبھلی نہیں جاتی تو اس سے بھی وہ خدا کے پاک لوگوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ پہلے اس سے نبیوں کے دشمنوں نے ان روشن چراغوں کے بجھانے کے لئے کیا کیا نہ کیا اور کون سی تدبیر ہے جو عمل میں نہ لائے۔ لیکن چونکہ وہ راستی اور صداقت کے درخت تھے۔ اس لئے وہ غیبی مدد سے دم بدم نشوونما پکڑتے گئے اور معاندین کی مخالفانہ تدبیروں سے کچھ بھی ان کا نقصان نہ ہوا۔ بلکہ وہ ان لطیف اور خوشنما پودوں کی طرح جو مالک کے جی کو بھاتے ہیں اور بھی بڑھتے پھولتے گئے۔ یہاں تک کہ وہ بڑے بڑے سایہ دار اور پھلدار درختوں کے مانند ہوگئے اور دور دور کے روحانی اور حقانی آرام کے ڈھونڈنے والے پرندوں نے آکر ان میں بسیرا لیا اور