رہے کیونکہ جبکہ ڈرنے کا ان کو خود اقرار ہے چنانچہ وہ اس اقرار کو کئی مرتبہ رو رو کر ظاہر کر چکے ہیں تو اب یہ بار ثبوت انہیں کی گردن پر ہے کہ وہ الہامی پیشگوئی اورؔ اسلامی صداقت سے نہیں ڈرے بلکہ اس لئے ڈرتے رہے کہ ان کو متواتر یہ تجربہ ہو چکا تھا کہ اس پیشگوئی سے پہلے اس عاجز نے ہزاروں کا خون کر دیا ہے اور اب بھی اپنی بات پوری کرنے کے لئے ضرور ان کا خون کر دے گا بقیہ حاشیہ: جواب دیگر ہو۔ پس عیسائیوں کے مصنوعی اصول کے موافقؔ یہ جواب چاہیئے تھا کہ جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے یہ غلط ہے اور میں اپنی انسانیت کی رو سے ہرگز ابن اللہ نہیں کہلاتا بلکہ ابن اللہ تو اقنوم دوم ہے جس کا تمہاری کتابوں کے فلاں فلاں مقام میں ذکر ہے۔ لیکن مسیح نے ایسا جواب نہ دیا بلکہ ایک دوسرے مقام میں یہ کہا ہے کہ تمہارے بزرگ تو خدا کہلائے ہیں۔ پس ثابت ہے کہ دوسرے نبیوں کی طرح مسیح نے بھی اپنے انسانی روح کے لحاظ سے ابن اللہ کہلایا اور صحت اطلاق لفظ کیلئے گذشتہ نبیوں کا حوالہ دیا۔ پھر بعد اس کے عیسائیوں نے اپنی غلط فہمی سے مسیح کو درحقیقت خدا کا بیٹا سمجھ لیااور دوسروں کو بیٹا ہونے سے باہر رکھا پس اسی واقعہ صحیحہ کی قرآن مجید نے گواہی دی اور اگر کوئی یہ کہے کہ اقنوم ثانی کا مسیح کی انسانی روح سے ایسا اختلاط ہوگیا تھا کہ درحقیقت وہ دونوں ایک ہی چیز ہوگئے تھے اس لئے مسیح نے اقنوم ثانی کی وجہ سے جو اس کی ذات کا عین ہوگیا تھا خدائی کا دعویٰ کر دیا تو اس تقریر کا مآل بھی یہی ہوا کہ بموجب زعم نصاریٰ کے ضرور مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا کیونکہ جب اقنوم ثانی اس کے وجود کا عین ہوگیا اور اقنوم ثانی خدا ہے تو اس سے یہی نتیجہ نکلا کہ مسیح خدا بن گیا۔ سو یہ وہی ضلالت کی راہ ہے جس سے پہلے اور پچھلے عیسائی ہلاک ہو گئے اور قرآن نے درست فرمایا کہ یہ بندہ پرست ہیں۔ منہ * آتھم صاحب نے اپنی متواتر تحریروں میں میرے پر اور میرے بعض مخلصوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ اس لئے اپنی موت سے ڈرتے رہے کہ میں اور میرے بعض دوست ان کے قتل کرنے کیلئے مستعد تھے اور گویا انہوں نے کئی دفعہ برچھیوں اور تلواروں کے ساتھ حملہ کرتے بھی دیکھا تو اس صورت میں اگر وہ اپنے بے جا الزاموں کو ثابت نہ کریں تو کم سے کم وہ اس جرم کے مرتکب ہیں جس کی تشریح دفعہ ۵۰۰ تعزیرات میں درج ہے وہ خوب جانتے تھے کہ کبھی میرے پر ڈاکو یا خونی ہونے کا الزام نہیں لگایا گیا