اس جھوٹ کی سزا مجھ پر یہ نازل کر کہ میں ایک سال کے اندر سخت عذاب اٹھا کر مر جاؤں۔ غرض یہ قسم ہے جس کا ہم
مطالبہ کرتے ہیں*اور ہم یہ بھی کھول کر تحریر کر چکے ہیں کہ قانون انصاف آتھم صاحب پر واجب کرتا ہے کہ وہ اس تصفیہ کے لئے ضرور قسم کھاویں کہ وہ پیشگوئی کے ایام میں اسلامی صداقت
سے خائف نہیں ہوئے بلکہ برابر بندہ پرست* *ہی
*نوٹ: آتھم صاحب نے نور افشاں ۱۰؍ اکتوبر ۱۸۹۴ ء میں مطالبہ کی قسم کے بارے میں یہ جواب شائع کیا ہے کہ اگر مجھے قسم دینا ہے
تو عدالت میں میری طلبی کرایئے یعنی بغیر جبر عدالت میں قسم نہیں کھا سکتا گویا ان کا ایمان عدالت کے جبر پر موقوف ہے مگر جو سچائی کے اظہار کے لئے قسم نہیں کھاتے وہ نیست و نابود کئے
جائیں گے۔ یرمیا ۱۴ /۱۴۔
**نوٹ: عیسائی لوگ اس لئے بندہ پرست ہیں کہ عیسیٰ مسیح جو ایک عاجز بندہ ہے ان کی نظر میں وہی خدا ہے اور یہ قول ان کا سراسر فضول اور نفاق اور دروغ
گوئی پر مبنی ہے جو وہ کہتے ہیں کہ ہم عیسیٰ کو تو ایک انسان سمجھتے ہیں مگر اس بات کے ہم قائل ہیں کہ اس کے ساتھ اقنوم ابن کا تعلق تھا کیونکہ مسیح نے انجیل میں کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ
اقنوم ابن سے میرا ایک خاصؔ تعلق ہے اور وہی اقنوم ابن اللہ کہلاتا ہے نہ مَیں بلکہ انجیل یہ بتلاتی ہے کہ خود مسیح ابن اللہ کہلاتا تھا اور جب مسیح کو زندہ خدا کی قسم دے کر سردار کاہن نے پوچھا
کہ کیا تو خدا کا بیٹا ہے تو اس نے یہ جواب نہ دیا کہ میں تو ابن اللہ نہیں بلکہ میں تو وہی انسان ہوں جس کو تیس برس سے دیکھتے چلے آئے ہو ہاں ابن اللہ وہ اقنوم ثانی ہے جس نے اب مجھ سے قریباً
دو سال سے تعلق پکڑ لیا ہے بلکہ اس نے سردار کاہن کو کہا کہ ہاں وہی ہے جو تو کہتا ہے پس اگر ابن اللہ کے معنی اس جگہ وہی ہیں جو عیسائی مراد لیتے ہیں تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ مسیح نے
خدائی کا دعویٰ کیا پھر کیونکر کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو انسان سمجھتے ہیں۔ کیا انسان صرف جسم اور ہڈی کا نام ہے۔ افسوس کہ اس زمانہ کے جاہل عیسائی کہتے ہیں کہ قرآن نے ہمارے عقیدہ کو
نہیں سمجھا حالانکہ وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح نے خود اپنے منہ سے ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ظاہر ہے کہ سردار کاہن کا یہ کہنا کہ کیا تو خدا کا بیٹا ہے اس کا مدعا یہی تھا کہ تو
جو انسان ہے پھر کیونکر انسان ہوکر خدا کا بیٹا کہلاتا ہے کیونکہ سردار کاہن جانتا تھا کہ یہ ایک انسان اور ہماری قوم میں سے یوسف نجّار کی بیوی کا لڑکا ہے لہٰذا ضرور تھا کہ مسیح سردار کاہن کا
وہ جواب دیتا جو اس کے سوال اور دلی منشاء کے مطابق ہوتا کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ سوال دیگر اور