صفات کے بارے میں قرآن کریم یہ سچی اور پاک اور کامل معرفت سکھاتا ہے کہ اس کی قدرت اور رحمت اور عظمت اور تقدس
بے انتہا ہے اور یہ کہنا قرآنی تعلیم کے رو سے سخت مکروہ گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور عظمتیں اور رحمتیں ایک حد پر جاکر ٹھہر جاتی ہیں یا کسی موقعہ پر پہنچ کر اس کا ضعف اسے مانع
آجاتا ہے بلکہ اس کی تمام قدرتیں اس مستحکم قاعدہ پر چل رہی ہیں کہ باستثنا ان امور کے جو اس کے تقدس اور کمال اور صفات کاملہ کے مخالف ہیں یا اس کے مواعید غیر متبدلہ کے منافی ہیں باقی
جو چاہتا ہے کرسکتا ہے مثلاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے اپنے تئیں ہلاک کرسکتا ہے کیونکہ یہ بات اس کی صفت قدیم حیّ و قیّوم ہونے کے مخالف ہے۔ وجہ یہ کہ وہ پہلے ہی اپنے
فعل اور قول میں ظاہر کرچکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیر فانی ہے اور موت اس پر جائز نہیں۔ ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور قریباً
نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلاتا پیدا ہو جاتا ہے۔ اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا ہے اور
آخر چند ساعت جان کُندنی کا عذاب اٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تمام امور نقصان اور منقصت میں داخل ہیں اور اس کے جلال قدیم اور کمال تام کے برخلاف ہیں۔
پھر یہ
بھی جاننا چاہیئے کہ چونکہ اسلامی عقیدہ میں درحقیقت خداتعالیٰ تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہی ہے ۔ اور کیا ارواح اور کیا اجسام سب اسی کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کی قدرت سے ظہور پذیر
ہوئے ہیں لہٰذا ؔ قرآنی