افسوس کہ تمام مخالف مذہب والوں نے خدا تعالیٰ کے وسیع دریائے قدرت اور رحمت اور تقدس کو اپنی تنگ دلی کی وجہ سے
زبردستی روکنا چاہا ہے اور انہیں وجوہ سے ان کے فرضی خداؤں پر کمزوری اور ناپاکی اور بناوٹ اور بے جا غضب اور بے جا حکومت کے طرح طرح کے داغ لگ گئے ہیں لیکن اسلام نے خدا تعالیٰ
کی صفات کاملہ کی تیز رو دھاروں کو کہیں نہیں روکا وہ آریوں کی طرح اس عقیدہ کی تعلیم نہیں دیتا کہ زمین و آسمان کی روحیں اور ذرات اجسام اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں اور جس کا
پرمیشر نام ہے وہ کسی نامعلوم سبب سے محض ایک راجہ کے طور پر ان پر حکمران ہے اور نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور
نہ صرف نو مہینہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہگار جسم سے جو بنت سبع اور تمر اور راحاب جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں ابنیت کا حصہ رکھتا تھا خون اور ہڈی اور
گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ چیچک دانتوں کی تکالیف وغیرہ تکلیفیں وہ سب اٹھاؔ ئیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی
طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آگئی مگر چونکہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ تھا اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں اس لئے دعویٰ کے ساتھ ہی پکڑا گیا بلکہ اسلام ان سب نقصانوں اور
ناپاک حالتوں سے خدائے حقیقی ذوالجلال کو منزہ اور پاک سمجھتا ہے اور اس وحشیانہ غضب سے بھی اس کی ذات کو برتر قرار دیتا ہے کہ جب تک کسی کے گلے میں پھانسی کا رسہ نہ ڈالے تب تک
اپنے بندوں کے بخشنے کے لئے کوئی سبیل اس کو یاد نہ آوے اور خدا تعالیٰ کے وجود اور