حرکت تھی۔ جس کی وجہ سے وہ ایسا نادم ہوا کہ جب ایک شخص نے نیک کہا تو بھوت کو بھگا دو اور دماغ اوہام سے خالی کرو تب انجیل مقدس کو پڑھو تو تم کو تعجب ہوگا کہ تم نے ایک لحظہ کے لئے بھی کیونکر اس جہالت اور ظلم کے مصنف کو عقلمند اور نیک اور پاک خیال کیا تھا ایسا ہی اور بہت سے فلاسفر سائنس کے جاننے والے جو انجیل کو نہایت ہی کراہت سے دیکھتے ہیں وہ انہیں ناپاک تعلیموں کی وجہ سے متنفر ہوگئے *جن کو ماننا ایک عقلمند کے لئے درحقیقت نہایت درجہ جائے عار ہے۔ مثلاً یہ ایک جھوٹا قصہ کہ ایک باپ ہے جو سخت مغلوب الغضب اور سب کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور ایک بیٹا ہے جو نہایت رحیم ہے جس نے باپ کے مجنونانہ غضبؔ کو اس طرح لوگوں سے ٹال دیا ہے کہ آپ سولی پر چڑھ گیا اب بے چارے محقق یورپین ایسی بے ہودہ باتوں کو کیونکر مان لیں ایسا ہی عیسائیوں کی یہ سادہ لوحی کے خیال کہ خدا کو تین جسم پر منقسم کر دیا۔ ایک وہ جسم جو آدمی کی شکل میں ہمیشہ رہے گا جس کا نام ابن اللہ ہے۔ دوسرے وہ جسم جو کبوتر کی طرح ہمیشہ رہے گا جس کا نام روح القدس ہے۔ تیسرے وہ جسم جس کے داہنے ہاتھ بیٹا جا بیٹھا ہے۔ اب کوئی عقلمند ان اجسام ثلاثہ کو کیونکر قبول کرے لیکن شیطان کی ہمراہی کا الزام یورپین فلاسفروں کے نزدیک کچھ کم ہنسی کا باعث نہیں۔ بہت کوششوں کے بعد یہ تاویلیں پیش ہوتی ہیں کہ یہ حالات یسوع کے دماغی قویٰ کے اپنے ہی تخیلات تھے اور اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ تندرستی اور صحت کی حالت میں ایسے مکروہ تخیلات پیدا نہیں ہوسکتے۔ بہتوں کو اس عیسائیوں میں جس قدر کوئی فلسفہ کے مینار پر پہنچتا ہے اسی قدر انجیل اور عیسائی مذہب سے بیزار ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان دنوں میں ایک میم صاحبہ نے بھی عیسائی عقیدہ کے رد میں ایک رسالہ شائع کیا ہے مگر اسلامی فلاسفروں کا اس کے برعکس حال ہے۔ بو علی سینا جو رئیس فلاسفہ اور بدمذہب اور ملحد کر کے مشہور ہے وہ اپنی کتاب اشارات کے اخیر میں لکھتا ہے کہ اگرچہ حشر جسمانی پر دلائل فلسفیہ قائم نہیں بلکہ اس کے برعکس پر قائم ہوتے ہیں مگر چونکہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ منہ