چاہئے تھا کہ یسوع کی دادیاں اور نانیاں زنا کاریوں اور حرام کاریوں سے بچائی جاتیں مگر جس حالت میں تمام پیغمبر باوجودیکہ بقول عیسائیاں یسوع کی خودکشی پر ایمان لاتے تھے بدکاریوں سے نہ بچ سکے اور نہ یسوع کی دادیاں نانیاں بچ سکیں تو اس سے صاف طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ جھوٹا کفارہ کسی کو نفسانی جذبات سے بچا نہیں سکتا اور خود مسیح کو بھی بچا نہ سکا دیکھو ؔ وہ کیسے شیطان کے پیچھے * پیچھے چلا گیا۔ حالانکہ اس کو جانا مناسب نہ تھا اور غالباً یہی آج کل کے یورپین فلاسفر باوجود عیسائی ہونے کے اس بات کو نہیں مانتے کہ درحقیقت یسوع کو شیطان پھسلا کر ایک پہاڑی پر لے گیا تھا کیونکہ وہ لوگ شیطان کے تجسم کے قائل نہیں بلکہ خود شیطان کے وجود سے ہی منکر ہیں لیکن درحقیقت علاوہ خیالات ان فلاسفروں کے ایک اعتراض تو ضرور ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعہ شیطان کی رفاقت کا یہودیوں کے پہاڑوں اور گذر گاہوں میں ہوتا تو ضرور تھا کہ نہ صرف یسوع بلکہ کئی یہودی بھی اس شیطان کو دیکھتے اور کچھ شک نہیں کہ شیطان معمولی انسانوں کی طرح نہیں ہوگا بلکہ ایک عجیب و غریب صورت کا جاندار ہوگا جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتا ہوگا۔ پس اگر درحقیقت شیطان یسوع کو بیداری میں دکھائی دیا تھا تو چاہئے تھا کہ اس کو دیکھ کر ہزارہا یہودی وغیرہ اس جگہ جمع ہو جاتے اور ایک مجمع اکٹھا ہو جاتا لیکن ایسا وقوع میں نہیں آیا۔ اس لئے یورپین محقق اس کو کوئی خارجی واقعہ قبول نہیں کرسکتے بلکہ وہ ایسے ہی بے ہودہ تخیلات کی وجہ سے جن میں سے خدائی کا دعویٰ بھی ہے انجیل کو دور سے سلام کرتے ہیں چنانچہ حال میں ایک یورپین عالم نے عیسائیوں کی انجیل مقدس کی نسبت یہ رائے ظاہر کی ہے کہ میری رائے میں کسی دانشمند آدمی کو اس بات کے یقین دلانے کو کہ انجیل انسان کی بناوٹ بلکہ وحشیانہ ایجاد ہے صرف اسی قدر ضرورت ہے کہ وہ انجیل کو پڑھے پھر صاحب بہادر یہ فرماتے ہیں کہ تم انجیل کو اس طرح پڑھو جیسے کہ تم کسی اور کتاب کو پڑھتے ہو۔ اور اس کی نسبت ایسے خیالات کرو جیسے کہ اور کتابوں کی نسبت کرتے ہو اپنی آنکھوں سے تعظیم کی پٹی نکال دو اور اپنے دل سے خوف کے