کہ جیسا کہ انسان دنیا میں ارتکاب جرائم یا کسب خیرات اور اعمال صالحہ کے وقت صرف روح سے ہی کوئی کام نہیں کرتا بلکہ روح اور جسم دونوں سے کرتا ہے ایسا ہی جزا اور سزا کا اثر بھی دونوں پر ہی ہونا چاہئے یعنی جان اور جسم دونوں کو اپنی اپنی حالت کے مناسب پاداش اخروی سے حصہ ملنا چاہئے لیکن عیسائی صاحبوں پر سخت تعجب ہے کہ سزا کی حالت میں تو اس اصول کو انہوں نے قبول کر لیا ہے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے بدکاریاں اورؔ بے ایمانیاں کرکے خدا کو ناراض کیا ان کو جو سزا دی جائے گی وہ صرف روح تک محدود نہیں بلکہ روح اور جسم دونوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور گندھک کی آگ سے جسم جلائے جائیں گے اور وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا اور وہ پیاس سے جلیں گے اور ان کو پانی نہیں ملے گا۔اور جب حضرات عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ جسم کیوں آگ میں جلایا جائے گا تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھائی روح اور جسم دونوں مزدور کی طرح دنیا میں کام کرتے تھے پس جبکہ دونوں نے اپنے آقا کے کام میں مل کر خیانت کی تو وہ دونوں سزا کے لائق ٹھہرے۔ پس اے اندھو اور خدا کے نوشتوں پر غور کرنے میں غافلو تمہیں تمہاری ہی بات سے ملزم کرتا ہوں کہ وہ خدا جس کا رحم اس کے غضب پر غالب ہے جب اس نے سزا دینے کے وقت جسم کو خالی نہ چھوڑا تو کیا ضرور نہ تھا کہ وہ جزا دینے کے وقت بھی اس اصول کو یاد رکھتا کیا لائق ہے کہ ہم اس رحیم خدا پر یہ بدگمانی کریں کہ وہ سزا دینے کے وقت تو ایسا غضب ناک ہوگا کہ ہمارے جسموں کو بھی جلتے ہوئے تنور میں ڈالے گا لیکن جزا دینے کے وقت اس کا رحم اس درجہ پر نہیں ہوگا جس درجہ پر