وہ کتابیں دنیا میں سما نہ سکتیں اب کہو کہ دروغ گوئی میں انجیل کو کمال ہے یا کچھ کسر رہ گئی۔ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں گناہ کو ہلکا نہیں سمجھا گیا بلکہ بار بار بتلایا گیا ہے کہ کسی کو بجز اس کے نجات نہیں کہ گناہ سے سچی نفرت پیدا کرے مگر انجیل نے سچی نفرت کی تعلیم نہیں دی انجیل نے ہرگز اس بات پر زور نہیں دیا کہ گناہ ہلاک کرنے والا زہر ہے اس کے عوض اپنے اندر کوئی تریاق پیدا کرو بلکہ اس محرف انجیل نے نیکیوں کا عوض یسوع کی خود کشی کو کافی سمجھ لیا ہے مگر یہ کیسی بے ہودہ اور بھول کی بات ہے کہ حقیقی نیکی کے حاصل کرنے کی طرف توجہ نہیں بلکہ انجیل کی یہی تعلیم ہے کہ عیسائی بنو اور جو چاہو کرو۔ کفارہ ناقص ذریعہ نہیں ہے تاکسی عمل کی حاجت ہو۔ اب دیکھو اس سے زیادہ بدی پھیلنے کا ذریعہ کوئی اور بھی ہوسکتا ہے قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنے تئیں پاک نہ کرو اس پاک گھر میں داخل نہ ہوگے اور انجیل کہتی ہے کہ ہریک بدکاری کر تیرے لئے یسوع کی خودکشی کافی ہے۔ اب کس نے گناہ کو ہلکا سمجھا قرآن نے یا انجیل نے۔ قرآن کا خدا ہرگز کسی کو نیک نہیں ٹھہراتا۔ جب تک بدی کی جگہ نیکی نہ آجائے مگر انجیل نے اندھیر مچا دیا ہے۔ کفّارہ سے تمام نیکی اور راستبازی کے حکموں کو ہلکا اور ہیچ کر دیا اور اب عیسائی کے لئے ان کی ضرورت نہیں۔ حیف صد حیف۔ افسوس صد افسوس۔ دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ بہشت کی تعلیم محض نفسانی ہے جس سے ایک خدا رسیدہ شخص کو کچھ تسلّی نہیں ہوسکتی۔ اما الجواب پس واضح ہو کہ یہ بات نہایت بدیہی اور عند العقل مسلم اور قرین انصاف ہے