عوامؔ الناس کے بعض اعتراضوں کا جواب اور میاں عبدالحق غزنوی کیلئے ایک ہدیہ پہلا اعتراض۔ اگر آتھم نے حق کی طرف رجوع کیا تھا تو اس کے آثار کیوں اس میں ظاہر نہیں؟ جواب: درحقیقت یہ رجوع فرعونی رجوع کے موافق تھا نہ حقیقی رجوع کے موافق۔ فرعون جب رجوع کرتا تھا تو عذاب دور کیا جاتا تھا اور یہی عادت اللہ ہے اور اس عادت اللہ کی تصدیق میں یہ آیت بھی گواہ ہے۱؂ یعنی اے رب ہم سے عذاب کھول دے کہ ہم ایمان لائے اور پھر اس کے جواب میں فرماتا ہے۔۲؂ سورہ دخان۔ یعنی ہم تھوڑی مدت تک عذاب کھول دیتے ہیں اور پھر تم عود کرو گے اور کافر بن جاؤ گے۔ یہ آیت اس بات پر صریح نص ہے کہ خداتعالیٰ ایک شخص کی تضرّع کو قبول کر کے عذاب ٹال دیتا ہے اور جانتا ہے کہ پھر یہ کفر اور فسق کی طرف رجوع کرے گا اور تضرّع یا استغفار سے عذاب ٹالنا قدیم عادت اللہ ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے بجز ایسے شخص کے جو کمال تعصب سے اندھا ہو گیا ہو۔ ماسوا اس کے یہ مسلم اور مشہود امر ہے کہ جب ہیبت الٰہی اپنا جلوہ دکھاتی ہے تو اس وقت فاسق انسان کی اور صورت ہوتی ہے اور جب ہیبت کا وقت نکل جاتا ہے تو پھر اپنی شقاوت فطرتی سے اصلی صورت کی طرف عود کر آتا ہے۔ ایسے لوگ بہتیرے تم نے دیکھے ہوں گے کہ جب ان پر کوئی مقدمہ دائر ہو جس سے سخت قید یا پھانسی یا سزائے موت کا خطرہ ہو گو یہ بھی گمان ہو کہ شاید رہا ہو جائیں تو وہ ایسی ہیبت کو مشاہدہ کر کے اپنی فاسقانہ چال چلن کو بدلا لیتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور توبہ کرتے اور لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اور پھر جب ان کی اس تضرع کی حالت پر خداتعالیٰ رحم کر کے ان کو اس بلا سے خلاصی دیتا ہے تو فی الفور ان کے دل میں یہ خیال گذرتا ہے کہ یہ رہائی خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اتفاقی امر ہے تب وہ اپنے فسق میں پہلے سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں اور چند روز میں ہی اپنی عادات کی طرف رجوع کر آتے ہیں۔ اس کی اور بھی مثالیں ہیں مگر اس