قرآن کریم کا علم تم لوگوں میں نہیں رہا اسلئے بے ہودہ اعتراض تمہارا شیوہ ہوگیا ذرا شرم کرنی چاہیئے جس حالت میں خود
احمد بیگ اسی پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور وہ پیشگوئی کے اول نمبر پر تھا تو پھر کیوں اس پیشگوئی کے نفس مفہوم میں شک کیا جاتا ہے جس حالت میں بعض حصے پیشگوئی کے
میعاد کے اندر پورے ہوگئے جس سے کسی کو انکار نہیں پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ اس کے داماد کی موت میعاد گذرنے کے بعد ہو تو یہ سنت اللہ کی مخالفت کی وجہ سے ہوگا جو خداتعالیٰ کی
کتابوں میں پائی جاتی ہے اور سنت اللہ یہ ہے کہ عذاب کے متعلق جو پیشگوئیاں ہوں ان کی تاریخ اور میعاد تقدیر مبرم نہیں ہوتی بلکہ وہ میعاد ایسی توبہ اور استغفار سے بھی ٹل سکتی ہے جس پر
انسان بعد میں قائم نہ رہ سکے اور ہم نے سلطان محمد کے بارے میں اس کی موت کی وجہ تاخیر علیحدہ اشتہار میں ایسے طور سے ثابت کر دی ہے جس کے قبول کرنے سے کسی ایماندار کو عذر
نہیں ہوگا۔ اور بے ایمان جو ؔ چاہے سو کہے یاد رکھنا چاہیئے کہ پیشگوئی اپنی تمام عظمتوں کے ساتھ
پوری ہوئی جس سے کوئی دانشمند انکار نہیں کر سکتا۔ غرض یہ تمام اعتراضات
بے دینی
اور حماقت کی وجہ سے ہیں اعتراض وہ ہے جو ربانی کتابوں کے
موافق اعتراض ہو نہ ایسا اعتراض جس کے نیچے تمام نبی اور
رسول آ جائیں ایسے اعتراض کرنا بے ایمانوں اور
لعنتیوں کا
کام ہے اب اس تمام بیان سے
میاں محی الدین کے الہامات کی بھی
حقیقت کھل گئی۔ فقط
والسلام علیٰ من اتبع الہدٰی