الہام ہمارے جھوٹے ہوئے لیکن اگر اس نے قسم کھانے سے گریز کی تو بتلاؤ آپ کا منہ پورے طور پر کالا ہوگا یا نہیں اگرچہ باقی فریق کے لحاظ سے تین حصے آپ کے منہ کے تو ابھی کالے ہو چکے لیکن اب یہ تھوڑا سا ٹکڑہ منہ کا بھی ضرور کالا ہوگا۔ دیکھو ہم نے بلا توقف دو ہزار تک دینا کیا اس سے زیادہ ہم کیا کریں اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں میں سے کون بلا توقف اس فیصلہ کے لئے سعی کرتا ہے اور کون ولد الحرام بننے پر راضی ہوتا ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں کو ؔ یہ بھی خیال نہ آیا کہ اگر خداتعالیٰ نے ہمارا منہ کالا کرنا تھا تو کیا یہی طریق تھا کہ ایسی بحث میں منہ کالا کیا جاتا جو ہمارے ذاتی دعاوی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتی تھی بلکہ صرف یہ بحث تھی کہ اسلام سچا ہے یا عیسائیت۔ اور قرآن کریم اور آنحضرت صلعم حق پر ہیں یا عیسائیوں کی تعلیم اور عیسیٰ کو خدا بنانا۔ افسوس کہ ان لوگوں کو یہ بھی خیال نہ آیا کہ ایسا مغلوب ہونے میں تو دین کی سبکی ہوتی ہے اور امور بحث طلب کی طرف خیال جاکر خود اسلام پر بھاری زد ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے میرے بخل سے اسلام کی بھی پرواہ نہ رکھی۔ اب آپ لوگ سمجھ جائیں گے کہ یہ *** کس پر پڑی بلاشبہ آپ پر پڑی اے میاں عبد الحق۔ اس کے سوا اور لعنتیں بھی جو ہم ذکر کر چکے ہیں کچھ تھوڑی نہیں سچ تو یہ ہے کہ آپ کا منہ تو ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ کالا ہو چکا۔ جب پندرہ مہینہ کے اندر سرگروہ فریق مباحث کا مراتب منہ کالا ہوا پھر طامس ہاول کی جانکاہ بیماری سے *** کی سیاہی آپ کے منہ پر پھر گئی۔ پھر خسوف کسوف نے منہ پر تھوکا پھر عبد اللہ پادری کی جانکاہ بیماری سے تہ بتہ سیاہی جمی۔ پھر ہزار *** کی ذلت سے جس میں تمام پادری اور سب مکفر شریک تھے۔ یہ رو سیاہی کمال کو پہنچ گئی آتھم نے بھی منہ کالا کیا اور آئندہ بھی کرے گا اور مباہلہ کے بعد میاں عبد الحق پر کیا برکات نازل ہوئے اس کا تو کوئی بھی ثبوت نہ دیا ہاں میاں عبد الحق نے نزول برکات کے ثبوت میں یہ تو خوب ہی سنائی کہ حقیقی بھائی فوت ہوا اور اس کی رانڈ عورت کو نکاح میں لایا کیا یہ برکات ہیں اور یہ مباہلہ کا اثر جائے شرم۔ سوچنے والے سوچ لیں اور اگر دینی معارف سے اس عرصہ میں کچھ حصہ ملا تھا تو کیوں کرامات الصادقین کا جواب نہ لکھا اور کیوں ہزار *** کو اپنے پر وارد ہونے دیا۔ دنیوی برکات بھی وہ ہوتی ہیں جن کی دنیا میں کم نظیر ملے نہ یہ کہ رانڈ اور عمر فرسودہ عورت کو فریب سے گھر میں ڈالا جائے اور پھر یہ کہہ دیں کہ برکات نازل ہوگئیں۔ بھائی کا مرنا بے حساب گیا اور بیوہ کو پیش کر دیا۔ اگر حقیقی برکات کو دیکھنا ہو تو اس جگہ آکر دیکھ لو دیکھو کیونکر خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک اُمّی کی عربی دانی میں زبان کھولی اور قرآنی نکات اس کی زبان پر جاری کئے اور وہ بلاغت اور فصاحت عنایت کی جس سے