اب ؔ خوب غور کر کے دیکھو کہ مباہلہ کی *** کس پر پڑی منہ کالا کس کا ہوا آپ کا یا کسی اور کا۔ اور اگر یہ کہو کہ اگرچہ
آتھم صاحب کے باقی فریق پر موت، ذلت دکھ نازل ہوگئے مگر آتھم کی نسبت ابھی پورا فیصلہ نہیں ہوا تو خیر اسی قدر بالفعل مان لو کہ *** کے چار حصوں میں سے تین حصے تو آپ پر پڑ گئے اور
ایک حصہ ابھی کامل طور پر ظہور میں نہیں آیا آتھم اگرچہ پندرہ مہینہ تک ہم اور غم کے ہاویہ میں تو رہا مگر ابھی چونکہ پورا ہاویہ نہیں دیکھا اس لئے اس کے حساب میں سے صرف آدھی *** آپ
پر پڑی لیکن غور سے دیکھو تو یہ بھی ساری ہی پڑ گئی کیونکہ اس فیصلہ کے بعد جو اول ہم نے ایک ہزار روپیہ اور پھر دو ہزار بلا توقف دینا قبول کیا مگر آتھم صاحب نے اس طرف رخ نہ کیا تو صاف
طور پر کھل گیا کہ آتھم صاحب اپنے بیان میں جھوٹے ہیں اور ظاہر ہو گیا کہ درحقیقت آتھم صاحب نے خوف کے دنوں میں در پردہ اسلام کی طرف رجوع کیا تھا پس اس سے بتمام تر صفائی ثابت ہے
کہ ہماری فتح ہوئی اور دین اسلام غالب رہا پھر بھی اگر کوئی عیسائیوں کی فتح کا گیت گاتا رہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ آتھم کو قسم کھانے پر مستعد کرے اور ہم سے تین ہزار روپیہ دلاوے
اور میعاد گذرنے کے بعد ہم کو بے شک *** منہ کالا دجال کہے۔ اگر ہم نے اس میں افترا کیا ہے تو بے شک ہمارے آگے آ جائے گا اور ہماری ذلت ظاہر ہوگی لیکن اے میاں عبد الحق اگر اس تقریر کو
سن کر چپ ہو جاؤ تو بتلا کہ سچی *** کس پر پڑی اور واقعی طور پر منہ کس کا کالا ہوا اور یہ بھی یاد رکھو کہ ہمیں ان کے لئے جو عیسائیوں کو غالب قرار دیتے ہیں اور اس پیشگوئی کو جھوٹی
سمجھتے ہیں دل کی آہ سے یہ کہنا پڑا کہ اگر وہ ولد الحرام نہیں ہیں اور حلال زادہ ہیں تو اس مضمون کو پڑھتے ہی اس فیصلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں پس اگر ان کے کہنے سے آتھم نے قسم کھا لی اور
میعاد مقررہ تک بچ گیا تو بے شک ہمارا ہی منہ کالا ہوا اور ہم ہی *** ٹھہرے اور سارے
کے فضل سے جئیں گے جب تک دینی خدمت کا کام پورا نہ کر لیں تو پھر اگر عبد اللہ آتھم موت سے ڈر کر
قسم کھانے سے گریز کرے تو صاف طور پر ثابت ہوگا کہ اس کو اس مصنوعی خدا پر ایمان نہیں جس کے فضل کا ذکر اشتہار میں کیا ہے مرنے کا قانون قدرت ہریک کے لئے مساوی ہے جیسا آتھم
صاحب اس کے نیچے ہیں ہم بھی اس سے باہر نہیں اور جیسا کہ اس عالم ؔ کون و فساد کے اسباب ان کی زندگی پر اثر کر رہے ہیں ویسا ہی ہماری زندگی پر بھی مؤثر ہیں اور ہم حلفاًکہتے ہیں اور زور
سے کہتے ہیں کہ اگر آتھم صاحب قسم کھا لیں تو ہمارا سچا خدا ایک سال تک ان کو موت دے گا اور ہمیں موت سے بچائے گا اگر اس مصنوعی خدا پر بھروسہ ہے جو مریم کے پیٹ سے نکلا تو سب مل
کر اس سے دعا کرو تا اس مباہلہ کے بعد مسٹر آتھم صاحب ایک سال تک جیتے رہیں اور اگر قسم کھانے سے انہوں نے اعراض کیا تو ہماری فتح یابی پر مہر لگا دیں گے زیادہ کیا لکھیں ۔ والسلام علٰی
مناتّبع الھدٰی۔ منہ