ضیاؔ ءُ الحق
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشمۂ آفتاب را چہ گناہ
رسالہ ضیاء الحق کی نسبت ہمارا یہ ارادہ تھا
کہ منن الرحمن کے ساتھ اس کو شائع کریں اور اُسی کے حصوں میں سے ایک حصّہ اس کو ٹھہرا ویں لیکن بالفعل ہم نے رسالہ مذکورہ کی چند کاپیوں کا شائع کرنا اس لئے مناسب سمجھا کہ بعض
ناواقف اور متعصب اب تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ گویا وہ پیشگوئی جو آتھم کی نسبت کی گئی تھی وہ غلط نکلی۔ سو جس قدر ضیاء الحق کی کاپیاں اب ہم اپنے ہاتھ سے روانہ کرتے ہیں۔ اس کے
سوا کسی کی درخواست پر ہرگز یہ رسالہ روانہ نہیں ہوگا۔ مگر اس صورت میں کہ درخواست کنندہ منن الرحمن کی خریداری کی درخواست کرے کیونکہ یہ رسالہ اسی کتاب کا ایک حصّہ کیا گیا ہے
اور کتاب منن الرحمٰنانشاء اللہ تعالیٰ دسمبر ۱۸۹۵ئتک چھپ جائے گی تب اس کے نکلنے کے وقت یہ رسالہ بھی ایک حصہ اس کا متصور ہوکر شائع کیا جائے گا۔ بالفعل ہم چند نسخے جو پچاس سے
زیادہ نہیں محض اس غرض سے شائع کرتے ہیں کہ تا آتھم کے مقدمہ میں ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی جلد تر اس غلط فہمی کے گڑھے سے نکالیں کیونکہ ہمارے اندھے
مخالف اب تک اس سچائی کو دیکھ نہیں سکے جو پیشگوئی