لوگ اسلامی ممالک میں نفاق سے اظہار اسلام کر دیتے ہیں یا جیسے بعض دنیا پرست اپنی اغراض دنیوی کے پورا کرنے کے لئے
محض نفاق سے بپتسمہ پاکر ربّنا المسیحکہنے لگتے ہیں اور عیسیٰ کے بندے کہلاتے ہیں۔ لیکن مصیبت زدہ اور خوفناک حالت کے آئینہ سے جو ظاہر ہو اس میں نفاق کی گنجاش نہیں بلکہ وہ فعلی اور
حالی اقرار ہے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے مصیبت زدہ حالت اور خوفناک صورت کا وہ نمونہ دکھلایا جس سے بڑھ کر گنجائش نہیں۔ پھر بعد اس کے ہمارا ایک ہزار روپیہ کا
اشتہار ان کے اقرار پر ایک دوسرا گواہ ناطق ہے اور اب بھی اگر کسی کو اقرار میں شک ہو تو بجز دیوانگی اور تاریکی خیال کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ پھر ماسوا اس کے یہ بھی نہایت درجہ کی
غلطی ہے کہ فریق مخالف میں سے بار بار صرف اس شخص کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو ان میں سے ان کے مشورہ اور اتفاق رائے سے بحث کیلئے منتخب کیا گیا تھا اور جو باقی اس فریق کے اشخاص
ہیں۔ ان لوگوں کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ ہم ایسے لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہمارے الہام میں ہاویہ اور ذلّت کے وعدہ پر صرف مسٹر عبد اللہ آتھم کا نام تھا۔ یا وہ الہام عام طور پر فریق کے لفظ
سے ذکر کیا گیا تھا اگر الہامی الفاظ میں فریق کا لفظ ہے تو کیوں فریق کا لفظ صرف عبد اللہ آتھم کے وجود پر محدود کیا جاتا ہے اور کیوں تمام واقعات کو یکجائی نظر سے دیکھا نہیں جاتا۔ کیا مسٹر
عبد اللہ آتھم نے مستقل طور پر بغیر کسی فریق قائم ہونے کے آپ ہی بحث کی تھی اور کوئی اس کا معاون اور سرگروہ نہ تھا اور اگر ایک فریق مخالف قائم ہوکر اس فریق کے انتخاب سے مسٹر عبد اللہ
آتھم بحث کیلئے چنے گئے تھے تو پھر اس فریق کو باوجودیکہ الہامی عبارت میں داخل ہے کیوں باہر رکھا جاتا ہے ہریک منصف پر لازم ہے کہ الہام کے اصلؔ الفاظ کی پیروی کرے نہ کہ اپنے خیال
کے موافق کوئی نیا الہام بنا وے سو ہم کو ایسے لوگوں پر بڑا تعجب ہی آتا ہے کہ جو ناحق بے وجہ صرف مسٹر عبد اللہ آتھم تک الہامی پیشگوئی کو محدود رکھتے ہیں اور فریق کے لفظ کو غور سے
نہیں دیکھتے اور ایک کامل فتح کو اپنی قلت تدبر اور غفلت کی وجہ سے کامل فتح خیال نہیں کرتے لیکن صداقت رد نہیں ہوسکتی بلکہ ہر ایک لڑائی اور سخت درجہ کے جھگڑے کے بعد بھی اس کو قبول
کرنا ہی پڑے گا۔ اور کاغذات بحث کے مطالعہ کے بعد بہرحال ماننا پڑے گا کہ عبد اللہ آتھم فریق مخالف میں سے ایک جزو تھا جس کو بحث کے لئے فریق مخالف کے دوسرے ممبروں نے منتخب کیا
کیونکہ اس فریق نے اپنے کام بانٹ لئے تھے اور بحث کیلئے مسٹر عبد اللہ آتھم اسی وجہ سے منتخب ہوا تھا کہ اس کو اکسٹرا اسسٹنٹی کے زمانہ سے عبارت نویسی اور سخن سازی کی مشق بہت
ہے۔
اب آنکھیں کھولو اور اندھے مت بن جاؤ اور غور سے دیکھو کہ کیا اس تمام فریق نے ہاویہ
نوٹ۔اب بھی پندرہ ماہ کے بعد جو عیسائیوں کی طرف سے اشتہارنکلا اسکی عبارت یہ ہے۔
مسیحیوں اور محمدیوں کے جنگ مقدس کا نتیجہ۔ منہ