بدیہی طور پر اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق اس کو مشاہدہ کر لیتے مگر درحقیقت نہ کبھی ایسا ہوا اور نہ ہوگا۔ اور اگر کبھی
ایسا ہوتا اور ہر ایک کج فطرت اپنی خواہشوں کے مطابق نشان دیکھ کر تسلی پا لیتے تو گو خدا تعالیٰ تو ایسا نشان دکھلانے پر قادر تھا اور اس بات پر قدرت رکھتا تھا کہ تمام گردنیں اس نشان کی طرف
جھک جائیں اور ہر یک نوع کی فطرت اس کو دیکھ کر سجدہ کرے مگر اس دنیا میں جو ایمان بالغیب پر اپنی بناء رکھتی ہیں اور تمام مدار نجات پانے کا ایمان بالغیب پر ہے وہ نشان حامی ایمان نہیں ہو
سکتا تھا بلکہ ربانی وجود کا سارا پردہ کھول کر ایمانی انتظام کو بکلی برباد کر دیتا اور کسی کو اس لائق نہ رکھتا کہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاکر ثواب پانے کا مستحق رہے کیونکہ بدیہیات کا ماننا ثواب
کا موجب نہیں ہو سکتا اور جب ایک ایسا کھوکھلا نشان دیکھ کر تمام نالائق اور پست فطرت اور سفلی خیال کے آدمی اور بدچلن انسان ایک ہا ہو کر کے جماعت میں داخل ہو جاتے تو ان کا داخل ہونا پاک
جماعت کے لئے ننگ اور عار ہو جاتا اور نیز خلق اللہ کا یک دفعہ رجوع کرنا اور کئی قسم کے فتنے پیدا کرنا انسانی گورنمنٹوں میں بھی ایک تہلکہ مچاتا۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے
ابتداء سے نہیں چاہا کہ نشان نمائی میں عوام کا شور و غوغا ہونے دے اس کی باتیں ٹل نہیں سکتیں اور سب پوری ہوتی ہیں اور ہوں گی مگر ایسے طور سے جو قدیم سے سنت اللہ ہے۔
تنبیہؔ
ہم محض نصیحۃً للہ تمام مسلمانوں کو مطلع کرتے ہیں کہ اللہ جلّ شانہٗ کے فضل اور کرم سے عیسائیوں کے گروہ کے مقابلہ میں ہم کو فتح نمایاں حاصل ہوئی ہے چنانچہ عیسائیوں کے فریق میں
سے مسٹر عبد اللہ آتھم جو بحث کے لئے منتخب کئے گئے تھے۔ انہوں نے اپنے کئی مہینوں کی سرگردانی اور غلبہ، خوف وہم سے ثابت کر دیا کہ حق کی عظمت کو انہوں نے قبول کر لیا اور جو کچھ
ان کے حال کے آئینہ سے ظاہر ہے یہ قائم مقام اقرار کے ہے بلکہ ایک صورت میں اقرار سے بھی واضح تر اور زیادہ تر تسلی کے لائق ہے کیونکہ بعض اوقات اقرار نفاق کی وجہ سے بھی ہوا کرتا ہے
کئی یورپ کے عیسائی
نوٹ۔خاص جنڈیالہ میں بھی جہاں سے مباحثہ شروع ہوا تھا ڈاکٹر یوحنا جس کو عین مباحثہ میں اہتمام طبع مباحثہ
کا سپرد ہوا تھا اور جو بلحاظ اپنی خدمات کے
عیسائیوں میں ایک اعلیٰ رکن متصور ہوتا تھا اس پر ہیبت نشان
کی پورا کرنے کے واسطے میعاد مقررہ کے اندر اس جہان سے رخصت ہوا۔