چند اخباروں میں چھپوا دیا جائے گا اور اس تمسک میں ضامنوں کی طرف سے یہ اقرار ہوگا کہ اگر تاریخ تمسک سے ایک سال تک
پیشگوئی پوریؔ نہ ہوئی اور آتھم صاحب صحیح و سالم رہے تو یہ کل روپیہ آتھم صاحب کی ملکیت ہو جائے گا۔ ورنہ ضامن کل روپیہ بلا توقف واپس کریں گے۔ اب آخر میں ہم پھر آتھم صاحب کو
حضرت عیسیٰ مسیح کی عزت بطور سفارشی پیش کر کے اس زندہ خدا کی قسم دیتے ہیں۔ جو جھوٹوں اور سچوں کو خوب جانتا ہے کہ اس طریق تصفیہ کو ہرگز رد نہ کریں۔ وہ تو بقول خود ہمارا
جھوٹا ہونا اور ہمارے الہام کا باطل ہونا اور مسیح کا معین و مددگار ہونا تجربہ کر چکے اب کیوں بعد تجربہ کے مرے جاتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ میری عمر قریب ۶۴ یا ۶۸ برس کی ہے اے
صاحب بموجب قول ساٹھا پاٹھا کے آپ تو ابھی بچے ہیں کون سے بڑی عمر ہوگئی ہے۔ ماسوا اس کے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا زندہ رکھنا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں یہ کیسی بے ایمان قوم ہے جو اپنے
تئیں سچا سمجھ کر پھر بھی خدا تعالیٰ پر توکل نہیں کرسکتی۔ دیکھو میری عمر بھی تو قریب ساٹھ برس کے ہے اور ہم اور آتھم صاحب ایک ہی قانون قدرت کے نیچے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ
مقابلہ کے وقت ضرور مجھے زندہ رکھ لے گا کیونکہ ہمارا خدا قادر اور حیّ و قیّوم ہے مریم عاجزہ کے بیٹے کی طرح نہیں اور ہم اس اشتہار کے بعد پھر ایک ہفتہ تک انتظار کریں گے۔
اے ہماری
قوم کے اندھو نیم عیسائیو کیا تم نے نہیں سمجھا کہ کس کی فتح ہوئی۔ کیا حق بجانب آدمی کی وہ نشانیاں ہیں جو آتھم صاحب ظاہر کر رہے ہیں یا یہ نشانیاں جو ان پُر ہیبت اور متواتر اشتہارات سے
روشن ہو رہی ہیں۔ کیا یہ استقامت کسی جھوٹے میں آسکتی ہے جب تک خدا تعالیٰ اس کے ساتھ نہ ہو۔ اور اگر یہ کہو کہ یہ سب سچ مگر نشان کون سا ظاہر ہوا