معزز عیسائی کا حوالہ دے سکتے ہیں جس نے شہادت کے لئے حاضر ہوکر قسم کھانے سے انکار کیا ہو۔ اب مناسب ہے کہ اگر آتھم صاحب کو بہرحال حیلہ سازی ہی پسند ہے اور کسی طرح قسم کھانا نہیں چاہتے تو اس عذر بے ہودہ کو اب چھوڑ دیں کہ قسم کھانا ممنوع ہے کیونکہ پورے طور پر ہم نے اس کی بیخ کنی کر دی ہے بلکہ چاہیئے کہ اپنے دجالوں کے مشورہ سے جان بچانے کے لئے کوئی نیا عذر پیش کریں اور نیم عیسائی یاد رکھیں کہ آتھم صاحب کبھی قسم نہیں کھائیں گے بلکہ اس عذر کو چھوڑ کر کوئی اور دجّالی حیلہ نکالیں گے کیونکہ ہماری نسبت وہ اپنے دل میں جانتے ہیں کہ ہم سچے اور ہمارا الہام سچا ہے لیکن کوئی عذر پیش نہیں جائے گا جب تک میدان میں آکر ہمارے روبرو آکر قسم نہ اٹھاویں یقیناً آتھم صاحب تمام پادریوں اور نیم عیسائیوں کے منہ پر سیاہی مل رہے ہیں جو قسم نہیں کھاتے۔ ایک عیسائی صاحب لکھتے ہیں کہ روپیہ دینا صرف لاف و گزاف ہے۔ یعنی آتھم صاحب قسم تو کھالیں مگر ان کو یہ دھڑکہ ہے کہ روپیہ نہیں ملے گا۔ سو یاد رہے کہ یہ بالکل فضول گوئی اور ڈوموں کی طرح صرف رندانہ کلام ہے ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم قسم کھانے سے پہلے باضابطہ تمسک لے کر حسب شرائط اشتہار ۹؍ستمبر ۱۸۹۴ ؁ء و ۲۰ستمبر ۹۴ء ؁ کل روپیہ آتھم صاحب کے ضامنوں کے حوالہ کر دیں گے اور ہمیں منظور ہے کہ آتھم صاحب کے دو داماد ہیں جو معزز عہدوں پر ہیں ضامن ہو جائیں اگر ہم تکمیل تمسک کے بعد ایک طرفۃ العین کی بھی روپیہ دینے میں توقف کریں تو بلاشبہ ہم جھوٹے ٹھہریں گے اور ضامنوں کو اختیار ہوگا کہ ہمیں آتھم صاحب کی دہلیز میں پیر نہ رکھنے دیں جب تک بعد تکمیل تمسک روپیہ وصول نہ کرلیں اور ایسا انتظام ہوگا کہ دس معزز گواہ کے روبرو اور انکی وساطت سے روپیہ دیا جائے گا اور تمسک لیا جائے گا اور ان د۱۰س گواہوں کی اس تمسک پر شہادت ہوگی اور وہ تمسک