گواہی سے اپنی راستبازی کی بنیاد پر مدد لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی گواہی یہی ہے کہ وہ اس ذات عالم الغیب کی قسم کھا کر اپنی صفائی پیش کرے اور جھوٹا ہونے کی حالت میں خدا تعالیٰ کی *** اپنے پر وارد کرے یہی طریق آخری فیصلہ کا نبیوں کے نوشتوں سے ثابت ہوتا ہے مگر آتھم صاحب کہتے ہیں کہ قسم کھانا ممنوع اور ایمانداری کے برخلاف ہے۔ اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ عذر ان کا بھی صحیح ہے یا نہیں کیونکہ اگر صحیح ہے تو پھر وہ فی الحقیقت قسم کھانے سے معذور ہیں لیکن اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ عیسائیوں کے ہریک مرتبہ کے آدمی کیا مذہبی اور کیا دنیوی جب کسی شہادت کے لئے بلائے جائیں تو قسم کھاتے اور انجیل اٹھاتے ہیں اور ایک بڑے سے بڑا پادری جب کسی عدالت میں کسی شہادت کے ادا کرنے کے لئے بلایا جائے تو کبھی یہ عذر نہیں کرتا کہ انجیل کی رو سے قسم منع ہے بلکہ بطیبِ خاطر قسم کھاتا ہے بلکہ انگریزی سلطنت کے کُل متعہد عہدے دار اور پارلیمنٹ کے ممبر یہاں تک کہ گورنر جنرل سب حلف اٹھانے کے بعد اپنے عہدوں پر مامور ہوتے ہیں تو پھر کیا خیال کیا جائے کہ یہ تمام لوگ تعلیم انجیل پر ایمان رکھنے سے بے بہرہ ہیں اور صرف ایک آتھم صاحب مرد مسیحی دنیا میں موجود ہیں جو حضرت عیسیٰ کی تعلیم پر ایسا ہی کامل ایمان ان کو نصیب ہے جیسا کہ پطرس حواری اور پولس رسول کو نصیب تھا بلکہ اگر یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ قسم کھانا انجیل کے رو سے منع ہے تو پھر آتھم صاحب کا ایمان پطرس اور پولس رسول کے ایمان سے بھی کہیں آگے بڑھا ہوا ہے کیونکہ آتھم صاحب کے نزدیک قسم کھانا بے ایمانی ہے لیکن متی ۲۷ باب ۷۲ آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ پطرس حواری بہشتی کنجیاں والے نے بھی اس بے ایمانی سے خوف نہیں کیا اور بغیر اس کے کہ کوئی قسم کھانے پر اصرار کرے آپ ہی قسم کھالی لیکن اگر آتھم صاحب کہیں کہ پطرس راستباز آدمی نہیں تھا کیونکہ حضرت مسیح