صاحب پر واجب تھا کہ اس الزام کو قسم کھانے سے اپنے سر پر سے اٹھا لیتے لیکن عیسائیت کی قدیم بددیانتی نے ان کو اس طرف آنے کی اجازت نہیں دی بلکہ یہ جھوٹا بہانہ پیش کردیا کہ قسم کھانا ہمارے مذہب میں منع ہے گویا ایسی تسلی بخش شہادت جو قسم کے ذریعہؔ سے حاصل ہوتی اور خصومت کو قطع کرتی اور الزام سے بری کرتی اور امن اور آرام کا موجب ہوتی ہے اور جو حق کے ظاہر کرنے کا انتہائی ذریعہ اور مجازی حکومتوں کے سلسلہ میں آسمانی عدالت کا رعب یاد دلاتی ہے اور جھوٹے کا منہ بند کرتی ہے وہ انجیلی تعلیم کے رو سے حرام ہے جس سے عیسائی عدالتوں کو پرہیز کرنا چاہیئے۔ لیکن ہریک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ بالکل حضرت عیسیٰ پر بہتان ہے حضرت عیسیٰ نے کبھی گواہی اور گواہی کے لوازموں کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہا حضرت عیسیٰ خوب جانتے تھے کہ قسم کھانا شہادت کی روح ہے اور جو شہادت بغیر قسم ہے وہ مدعیا نہ بیان ہے نہ شہادت، پھر وہ ایسی ضروری قسموں کو جن پر نظام تحقیقات کا ایک بھارا مدار ہے کیونکر بند کر سکتے تھے۔ الٰہی قانون قدرت اور انسانی صحیفہ فطرت اور انسانی کانشنس خود گواہی دے رہا ہے کہ خصومتوں کے قطع کے لئے انتہائی حد قسم ہی ہے اور ایک راستباز انسان جب کسی الزام اور شبہ کے نیچے آجاتا ہے اور کوئی انسانی گواہی قابل اطمینان پیش نہیں کرسکتا تو بالطبع وہ خدا تعالیٰ کی * نوٹ: کوئی سچی اور حقّانی تعلیم مجرموں کو پناہ نہیں دے سکتی پس جبکہ آتھم صاحب نے اس ڈر کا اقرار کر کے جس کو وہ کسی طرح سے چھپا نہیں سکتے یہ مجرمانہ عذر پیش کیا کہ یہ عاجز کئی دفعہ اقدام قتل کا مرتکب ہوا تھا اس لئے دل پر موت کا ڈر غالب ہوگیا تو کیا انجیل آتھم صاحب کو اس مطالبہ سے بچا لے گی کہ کیوں انہوں نے بے جا الزام لگایا۔ پھر کیونکر انجیل ان کو اسی قسم سے روک سکتی ہے جس سے ان کی بریت ہو۔ منہ