عام محاورہ اور اس وقت سے آج تک عرب کی تمام قوم کا عام محاورہ مارنے کے معنوں پر ہے اور نہ اور کچھ۔ اور ہم نے یہ بھی دکھلایا کہ جو معنی توفی کے لفظ میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے ثابت ہوئے وہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے بخاری کھول کر دیکھو اور پاک دل کے ساتھ اس آیت میں غور کرو کہ مَیں قیامت کے دن اسی طرح فلما توفّیتنیہوں گا جیسا کہ ایک عبد صالح یعنی حضرت عیسیٰ ؔ علیہ السلام نے کہا اور سوچو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمہ لفظ توفّی کے لئے کیسی ایک تفسیر لطیف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی تغییر اور تبدیل کے لفظ متنازعہ فیہ کا مصداق اپنے تئیں ایسا ٹھہرا لیا جیسا کہ آیت موصوفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے مصداق تھے۔ اب کیا ہمیں جائز ہے کہ ہم یہ بات زبان پر لاویں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت فلما توفیتنی * کے حقیقی مصداق نہیں تھے اور حقیقی مصداق عیسیٰ علیہ السلام ہی تھے اور جو کچھ اس آیت سے درحقیقت خداتعالیٰ کا منشاء تھا اور جو معنے توفّی کے واقعی طور پر اس جگہ مراد الٰہی تھی اور قدیم سے وہ مراد علم الٰہی میں قرار پا چکی تھی یعنی زندہ آسمان پر اٹھائے جانا نعوذ باللہ اس خاص معنی میں آنحضرت صلعم شریک نہیں تھے بلکہ آنحضرت نے اس آیت کو اپنی طرف منسوب کرنے کے وقت * بعض نادان کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کلام میں کما کا لفظ موجود ہے جو کسی قدر فرق پر دلالت کرتا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توفی اور حضرت عیسیٰ کی توفی میں کچھ فرق چاہیئے۔ مگر افسوس کہ یہ نادان نہیں سوچتے کہ مشبہ مشبہ بہ کی طرز واقعات میں خواہ کچھ فرق ہو لیکن لغات میں فرق نہیں پڑ سکتا۔ مثلاً کوئی کہے کہ جس طرح زید نے روٹی کھائی میں نے بھی اسی طرح روٹی کھائی۔ سو اگرچہ روٹی کھانے کے وضع یا عمدہ اور ناقص ہونے میں فرق ہو مگر روٹی کا لفظ جو ایک خاص معنوں کے لئے موضوع ہے اس میں تو فرق نہیں آئے گا۔ یہ تو نہیں کہ ایک جگہ روٹی سے مراد روٹی اور دوسری جگہ پتھر ہو۔ لغات میں تو کسی طرح تصرف جائز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور اسی قسم کا مقولہ ہے جو ابن تیمیّہ نے زاد المعاد میں نقل کیا ہے اور وہ عبارت یہ ہے۔ قال یا معشر قریش ما ترون انی فاعل بکم قالوا خیرًا اخ کریم وابن اخ کریم قال فانی اقول لکم کما قال یوسف لاخوتہ لا تثریب علیکم الیوم اذھبوا فانتم الطلقاء الصفحہ۴۱۵۔ اب دیکھو تثریب کا لفظ جن معنوں سے حضرت یوسف کے قول میں ہے انہیں معنوں سے آنحضرت صلعم کے قول میں ہے۔ منہ