کے دکھ پہنچائے۔ آخر وہ خداتعالیٰ کی نظرمیں اپنے بے شمار گناہوں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ اُن پر عذاب نازل ہو۔ اگران کی شرارتیں اس حد تک نہ پہنچتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز تلوار نہ اٹھاتے مگر جنہوں نے تلواریں اٹھائیں اور خداتعالیٰ کے حضور میں بے باک اور ظالم ثابت ہوئے وہ تلواروں سےؔ ہی مارے گئے۔ غرض جہاد نبوی کی یہ صورت ہے جس سے اہلِ علم بے خبر نہیں اور قرآن میں یہ ہدایتیں موجود ہیں کہ جو لوگ نیکی کریں تم بھی ان کے ساتھ نیکی کرو۔ جو تمہیں پناہ دیں اُن کے شکر گذار بنے رہو اورجو لوگ تمہیں دکھ نہیں دیتے ان کو تم بھی دکھ مت دو۔ مگر اِس زمانہ کے مولویوں کی حالت پر افسوس ہے کہ وہ نیکی کی جگہ بدی کرنے کو تیار ہیں اور ایمانی روحانیت اور انسانی رحم سے خالی۔ اللھم اصلح امۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ اٰمین۔ شیخ محمد حسین بطالوی کا ہمارے کافر ٹھہرانے پر اصرار اور ہماری طرف سے ہمارے اسلامی عقیدہ کا ثبوت اور نیز شیخ صاحب موصوف کے لئے ستائیس روپیہ کاانعام اگر وہ رسالہ سر الخلافہ کے مقابل پر رسالہ لکھ کرشائع کریں خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم نے ایک ذرہ اسلام سے خروج نہیں کیابلکہ جہاں تک ہمارا علم اور یقین ہے ہم اُن سب باتوں پر قائم اور راسخ ہیں جو نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے ثابت ہوتی ہیں اور ہمیں بڑا افسوس ہے کہ شیخ محمد حسین صاحب اور دوسرے ہمارے مخالفوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ ہمیں کافر اور دجّال بنایا اور خلو د جہنم ہماری سزا ٹھہرائی بلکہ قرآن اور حدیث کو بھی چھوڑ دیا اور ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہم اُن کی نفسانی خواہشوں اور غلطیوں اور خطاؤں کو تو کسی طرح قبول نہیں کر سکتے لیکن اگر کوئی سچی بات اور کتاب اللہ اور حدیث کے موافق کوئی عقیدہ اُن کے پاس ہو جس کے ہم بفرض محال مخالف ہوں تو ہم ہر وقت اس کے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم نے انہیں دکھلا دیا اور ثابت کر دیا کہ توفّی کے لفظ میں کتاب الٰہی کا عام محاورہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بول چال کا عام محاورہ اور صحابہ کی روز مرہ بول چال کا