کی وجہ سے ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ اور تاریخ درخواست گذر گئی اب وہ ستائیس روپیہ کو تو نہ چھوڑیں ہم نے سنا ہے کہ
ان دنوں میں شیخ صاحب پر تنگدستی کی وجہ سے تکلیفات بہت ہیں۔ خشک دوستوں نے وفا نہیں کی۔ پس ان دنوں* میں تو اُن کے لئے ایک روپیہ ایک اشرفی کا حکم رکھتا ہے گویا یہ ستائیس روپیہ
ستائیس اشرفی ہیں جن سے کئی کام نکل سکتے ہیں اور ہم اپنے سچے دل سے اقرار کرتے ہیں کہ اگر رسالہ سر الخلافہ کے مقابل پر شیخ صاحب نے کوئی رسالہ میعاد مقررہ کے اندر شائع کردیا اور
وہ رسالہ ہمارے رسالہ کا ہم پلہ ثابت ہوا تو ہم نہ صرف ستائیس روپیہ ان کو دیں گے بلکہ یہ تحریری اقرار لکھ دیں گے کہ شیخ صاحب ضرور عربی دان اور مولوی کہلانے کے مستحق ہیں بلکہ آئندہ
مولوی کے نام سے ان کو پکارا جائے گا۔ اور چاہیئے کہ اب کے دفعہ شیخ صاحب ہمت نہ ہاریں۔ یہ رسالہ تو بہت ہی تھوڑا ہے اور کچھ بھی چیز نہیں۔ اگر ایک ایک جُز روز گھسیٹ دیں تو صرف چار
پانچ روز میں اس کو ختم کرسکتے ہیں۔ اور اگر اپنے وجود میں کچھ بھی جان نہیں تو اُن سو ڈیڑھ سو مولویوں سے مدد لیں جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے کے مسلمانوں کو کافر اور جہنم ابدی کی سزا
کے لائق ٹھہرایا اور بڑے تکبر سے اپنے تئیں مولوی کے نام سے ظاہر کیا اگر وہ ایک ایک جُز لکھ کر دیں تو شیخ صاحب بمقابل اس رسالہ کے ڈیڑھ سو جُز کا رسالہ شائع کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر شیخ
صاحب نے پھر بھی ایسا کرنہ دکھایا تو پھر بڑی بے شرمی ہو گی کہ آ ؔ ئندہ مولوی کہلاویں بلکہ مناسب ہے کہ آئندہ جھوٹ بولنے اور جھوٹ بلوانے سے پرہیز کریں۔ شیخ کا نام آپ کے لئے کافی ہے
جو باپ دادے سے چلا آتا ہے یا منشی کا نام بہت موزوں ہو گا۔ لیکن ابھی یہ بات قابل آزمائش ہے کہ آپ منشی بھی ہیں یا نہیں۔ منشی کے لئے ضروری ہے کہ فارسی نظم میں پوری دسترس رکھتا ہو
مگر میری نظر سے اب تک آپ کا کوئی فارسی دیوان نہیں گذرا۔ بہرحال اگر ہم رعایت اور چشم پوشی کے طور پر آپ کا منشی ہونا مان بھی لیں اور فرض
* نوٹ:۔ شیخ صاحب اپنے حال کے
پرچہ میں اقراری ہیں کہ اگر اُن کے دوستوں نے اب بھی اُن کی مدد نہ کی تو وہ اس نوکری سے استعفا دے دیں گے۔ منہ