کے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے بھی ایک سہل اور صاف راستہ ان کو مل جائے گا اور ہزار *** کے داغ سے بھی بچ جائیں گے
۔ورنہ وہ نہ صرف مغلوب بلکہ الہام کے مصدق ٹھہریں گے۔ مگر شیخ صاحب نے ان باتوں میں سے کسی بات کی بھی پرواہ نہ کی اور کچھ بھی غیرت مندی نہ دکھلائی۔ اس کا کیا سبب تھا؟ بس یہی
کہ یہ مقابلہ شیخ صاحب کی طاقت سے باہر ہے سو ناچار انہوں نے اپنی رسوائی کو قبول کر لیا اور اس طرف رخ نہ کیا یہ اسی الہام کی تصدیق ہے کہ انی مھین من اراد اھانتک شیخ صاحب نے
منبروں پر چڑھ چڑھ کر صدہا آدمیوں میں صدہا موقعوں میں بار بار اِس عاجز کی نسبت بیان کیا کہ یہ شخص زبان عربی سے محض بے خبر اور علوم دین سے محض نا آشنا ہے ایک جاہل آدمی ہے اور
کذاب اور دجّال ہے اور اسی پر بس نہ کیا بلکہ صدہا خط اسی مضمون کے اپنے دوستوں کو لکھےؔ اور جابجا یہی مضمون شائع کیا۔ اور اپنے جاہل دوستوں کے دلوں میں بٹھا دیا کہ یہی سچ ہے۔ سو
خداتعالیٰ نے چاہا کہ اِس متکبر کا غرور توڑے اوراس گردن کش کی گردن کومروڑے اور اس کو دکھلاوے کہ کیونکر وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ سو اس کی توفیق اور مدد اور خاص اس کی تعلیم
اور تفہیم سے یہ کتابیں تالیف ہوئیں اور ہم نے کرامات الصادقین اور نور الحق کے لئے آخری تاریخ درخواست مقابلہ کی اس مولوی اور تمام مخالفوں کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ ء مقرر کی تھی جو
گذرگئی اور اب دونوں کتابوں کے بعد یہ کتاب سرّ الخلافۃ تالیف ہوئی ہے جو بہت مختصر ہے اور نظم اس کی کم ہے اور ایک عربی دان شخص ایسا رسالہ سات دن میں بہت آسانی سے بناسکتا ہے اور
چھپنے کے لئے دس دن کافی ہیں لیکن ہم شیخ صاحب کی حالت اور اس کے دوستوں کی کم مائیگی پر بہت ہی رحم کر کے دس دن اور زیادہ کر دیتے ہیں اور یہ ستائیس دن ہوئے سو ہم فی دن ایک روپیہ
کے حساب سے ستائیس روپیہ کے انعام پر یہ کتاب شائع کرتے ہیں اور شیخ صاحب اور ان کے اِسمی مولویوں کی خدمت میں التماس ہے کہ اگر وہ اپنی سُوء قسمت سے ہزار روپیہ کا انعام لینے سے
محروم رہے اور پھر پانچ ہزار روپیہ کا انعام پیش کیا گیا تو وہ وقت بھی اُن کی کم مائیگی