کہ انسان کی پرستش کرنا سخت ظلم ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کیا ہیں صرف ایک عاجز انسان اور اگر خداتعالیٰ چاہے تو
ایک دم میں کروڑہاایسے بلکہ ہزارہا درجہ اُن سے بہتر پیدا کر دے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کر رہا ہے۔ مُشت خاک کو منور کرنا اس کے نزدیک کچھ حقیقت نہیں جو شخص
صاف دل سے اور کامل محبت سے اس کی طرف آئے گابے شک وہ اس کو اپنے خاص بندوں میں داخل کر لے گا۔ انسان قرب کے مدارج میں کہاں تک پہنچ سکتا ہے اس کا کچھ انتہا بھی ہے ہرگز نہیں۔
اے مُردوں کے پرستارو زندہ خدا موجود ہے اگر اس کو ڈھونڈو گے پاؤ گے۔ اگرصدق کے پَیروں کے ساتھ چلو گے تو ضرور پہنچو گے۔ یہ نامَردوں اور مخنّثوں کا کام ہے کہ انسان ہو کر اپنے جیسے
انسان کی پرستش کرنا۔اگر ایک کو باکمال سمجھتے ہو تو کوشش کرو کہ ویسے ہی ہو جاؤ نہ یہ کہ اس کی پرستش کرو۔ مگر وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال
سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا بخدا وہ مسیح بن مریم نہیں ہے۔ مسیح تو صرف ایک معمولی سا نبی
تھا۔ ہاں وہ بھی کروڑہا مقربوں میں سے ایک تھا۔ مگر اُس عام گروہ میں سے ایک تھا اور معمولی تھا اِس سے زیادہ نہ تھا۔ بس اس سے دیکھ لو کہ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ یحییٰ نبی کا مرید تھا اور
شاگردوں کی طرح اصطباغ پایا۔
وہ صرف ایک خاص قوم کے لئے آیا۔ اور افسوس کہ اس کی ذات سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ پہنچ نہ سکا۔ ایک ایسی نبوت کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گیا جس کا
ضرر اس کے فائدہ سے زیادہ ثابت ہوا اور اس کے آنے سے ابتلا اورفتنہ بڑھ گیا۔ اور دنیا کے ایک حصہ کثیرہ نے ہلاکت کا حصہ لے لیا مگر اس میں شک نہیں کہ وہ سچا نبی اور خداتعالیٰ کے مقربوں
میں سے تھا۔ مگر وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور
ایک عالم کا عالم مَرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے
نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح
بن مریم اور ملاکی اور یحییٰ اور ذکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرب اور وجیہ اور خداتعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اُس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ
بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اللّٰھم صل وسلّم و بارک علیہ و اٰٰلہ و اصحابہ اجمعین و اٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العٰلمین۔