ان لوگوں کے بڑے پکے عقیدے ہیں اگر شک ہو تو کسی مولوی کا عدالت میں حلفاً اظہار لیا جاوے۔ تاعدالت پر کھل جائے کہ کیا
واقعی ان لوگوں کے یہی عقیدے ہیں یا ہم نے بیان میں غلطی کی ہے۔
لیکن ہم گورنمنٹ کو بلند آواز سے اطلاع دیتے ہیں کہ اس زمانہ میں جنگ اور جہاد سے دین اِسلام کو پھیلانا ہمارا عقیدہ نہیں ہے
اور نہ یہ عقیدہ کہ جس گورنمنٹ کے زیر سایۂ رہیں اور اس کے ظلِّ حمایت میں امن اور عافیت کا فائدہ اٹھاویں اور اس کی پناہ میں رہ کر اپنے دین کی بخوشئ خاطر اشاعت کر سکیں اُسی سے باغیوں
کی طرح لڑنا شروع کر دیں۔ کیا اس گورنمنٹ انگریزی میں ہم اَمن اور عافیت سے زندگی بسر نہیں کرتے۔ کیا ہم حسب مرضی دین کی اشاعت نہیں کر سکتے۔ کیا ہم دینی احکام بجا لانے سے روکے
گئے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ سچ اور بالکل سچ یہ بات ہے کہ ہم جس کوشش اور سعی اور امن اور آزادی سے اسلامی وعظ اور نصائح بازاروں میں، کوچوں میں،گلیوں میں اِس ملک میں کر سکتے ہیں اور
ہر یک قوم کو حق پہنچا سکتے ہیں یہ تمام خدمات خاص مکہ معظمہ میں بھی بجا نہیں لا سکتے چہ جائیکہ کسی اور جگہ تو پھر کیا اِس نعمت کا شکر کرنا ہم پر واجب ہے یا یہ کہ مفسدہ بغاوت شروع
کر دیں۔
سو اگرچہ ہم مذہب کے لحاظ سے اِس گورنمنٹ کو بڑی غلطی پر سمجھتے اور ایک شرمناک عقیدہ میں گرفتار دیکھ رہے ہیں تاہم ہمارے نزدیک یہ بات سخت گناہ اور بدکاری میں داخل ہے
کہ ایسے محسن کے مقابل پر بغاوت کا خیال بھی دل میں لاویں۔ ہاں بے شک ہم مذہبی لحاظ سے اس قوم کو صریح خطا پر اور ایک انسانی بناوٹ میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ تو اس صورت میں ہم دعا اور توجہ
سے اس کی اصلاح چاہتے ہیں اور خداتعالیٰ سے مانگتے ہیں کہ اس قوم کی آنکھیں کھولے اورؔ ان کے دلوں کو منور کرے اور انہیں معلوم ہو