شیخؔ محمد حسین بٹالوی کی نسبت ایک پیشین گوئی
شیخ محمد حسین ابو سعید کی آجکل ایک نازک حالت ہے۔ یہ شخص اس عاجز کو کافر سمجھتا ہے اور نہ صرف کافر بلکہ اس کے کفر نامہ میں کئی بزرگوں نے اس عاجز کی نسبت اکفر کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ اپنے بوڑھے استاد نذیر حسین دہلوی کو بھی اس نے اسی بلا میں ڈال دیا ہے سبحان اللہ ایک شخص اللہ جلّ شانہ اور اس کے رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلّم پر ایمان رکھتا ہے اور پابند صوم و صلوٰۃاور اہل قبلہ میں سے ہے اور تمام عملی باتوں میں ایک ذرہ بھی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کا مخالف نہیں اس کو میاں بٹالوی صرف اس وجہ سے کافر بلکہ اکفر اور ہمیشہ جہنم میں رہنے والا قرار دیتا ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بموجب نص بین قرآن کریم فوت شدہ سمجھتا ہے۔ اور بموجب پیشین گوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا اپنے متواتر الہامات اور قطع۲ نشانوں کی بناء پر اپنے تئیں مسیح موعود ظاہر کرتا ہے۔ اور میاں بٹالوی بطور افتراء کے یہ بھی کہتا ہے کہ گویا یہ عاجز ملائک کا منکر اور معراج نبوی کا انکاری اور نبوت کا مدعی اور معجزات کو بھی نہیں مانتا۔ سبحان اللہ کافر ٹھہرانے کے لئے اس بیچارے نے کیا کچھ افتراء کئے ہیں۔ انہیں غموں میں مر رہا ہے کہ کسی طرح ایک مسلمان کوؔ تمام خلق اللہ کافر سمجھ لے۔ بلکہ عیسائیوں اور یہودیوں سے بھی کفر میں بڑھ کر قرار دیوے۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اب اس شخص کا بہت ہی ُ برا حال ہے۔ اگر کسی کے منہ سے نکل جائے کہ میاں کیوں کلمہ گوؤں کو کافر بناتے ہوکچھ خدا سے ڈرو تو دیوانہ کی طرح اس کے گرد ہو جاتا ہے اور بہت سی گالیاں اس عاجز کو نکال کر کہتا ہے کہ وہ ضرور کافر اور سب کافروں سے بدتر ہے۔ ہم اس کے خیر خواہوں سے ملتجی ہیں کہ اس نازک وقت میں ضرور اس کے حق میں دعا کریں۔ اب کشتی اس کی ایک ایسے گرداب میں ہے جس