دی گئی ہے مگر قرآن میں اسلامی طاقت کے کم ہونے اور امواج فتن کے اٹھنے کے وقت جو عیسائی واعظوں کی دجالیت سے مرادہے نفخ صور کی خوشخبری دی گئی ہے اور نفخ صور سے مراد قیامت نہیں ہے کیونکہ عیسائیوں کے امواج فتن کے پیدا ہونے پر تو سو برس سے زیادہ گذر گیا ہے مگر کوئی قیامت برپا نہیں ہوئی بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ کسی مہدی اور مجدد کو بھیج کر ہدایت کی صور پھونکی جائے اور ضلالت کے مردوں میں پھر زندگی کی روح پھونک دی جاوے کیونکہ نفخ صور صرف جسمانی احیاء اوراماتت تک محدود نہیں ہے بلکہ روحانی احیاء اور اماتت بھی ہمیشہ نفخ صور کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے اور جیسا قرآن میں نفخ صور سے کسی مجدد کا بھیجنا مراد ہے تاعیسائی مذہب کے غلبہ کو توڑے ایسا ہی امواج فتن سے وہ دجالیت مراد ہے جو حدیثوں میں دجال معہود کے نام پر بیان کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے دجال معہود اور مسیح موعود کے لفظ کو جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہیں قرآن میں ذکر نہیں فرمایا بلکہ بجائے دجال کے نصاریٰ کی پر فتن کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ3 ۱ ؂ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا ہی قرآن کریم میں آنے والے مجددؔ کا بلفظ مسیح موعود کہیں ذکر نہیں بلکہ لفظ نفخ صور سے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تامعلوم ہوکہ مسیح موعود ارضی اور زمینی ہتھیاروں کے ساتھ ظاہر نہیں ہوگا بلکہ آسمانی نفخ پر اس کے اقبال اور عروج کا مدار ہوگا اور پُر حکمت کلمات کی قوت سے اور آسمانی نشانوں سے لوگوں کو حق اور سچائی کی طرف کھینچے گا کیونکہ وہ معقولی فتنوں کے وقت آئے گا نہ سیفی فتنوں کے وقت اورا صل حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہریک فتنہ کی طرز کے موافق نبی اور مجدد کو بھیجتا ہے۔ پس جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی تمام قوتیں مسلوب ہو چکی تھیں اور ان کے ہاتھ میں بجز مکر اور فریب اور زبانی باتوں کے اور کچھ نہ تھا اور سلطنت رومیہ جس کے تحت میں وہ اپنی بدچلنیو ں اور بدانتظامیوں کی جہت سے خود آگئے تھے رومیوں کا بلحاظ ملک گیری کچھ قصور نہ تھا یہی حال قرآن کریم میں مسیح موعود کے زمانہ میں لکھا گیا ہے مثلاً ہندوستان کے مسلمانوں کی نالائق حالت ایسی ہے کہ وہ کسی مصلح کے پیدا ہونے پر تلوار سے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتے کیونکہ خود تلواریں ان کے پاس نہیں اور دہلی کا تخت انگریزوں نے ایسا ہی لے لیا