نزدیک نہیں آتا۔ اب یہود کی تواریخ ہاتھ میں لیکر دیکھو کہ کس قدر ان مسلمانوں کو دین اور دنیاکی تباہی میں ان یہود سے اشد مشابہت ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے۔ توریت میں یہود کی نسبت یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب تک سیلا نہ آوے ان کی بادشاہی نہیں جائے گی۔ سیلا سے مراد حضرت مسیح تھے اور فی الواقع ایسا ہی ہوا تھاکہ حضرت مسیح کی پیدائش سے بھی کچھ عرصہ پہلے یہود کی متفرق ریاستوں پرسلطنت رومیہ ٹوٹ پڑی ہوئی تھی اور چونکہ یہود اس زمانہ کے مسلمانوں کی طرح باہمی نفاقوں اور روز کے جھگڑوں اور کسل اور جہالت کے غلبہ سے ضعیف ہوچکے تھے اور ان کی اندرونی حالت خود ان کے لئے ایک بدفالی کی خبردے رہی تھی اس لئے یہود نے حضرت مسیح کے زمانہ سے کچھ تھوڑا ہی پیشتر خود اپنے تئیں سلطنت رومیہ کے سپرد کردیا تھا اور مشابہت کے لحاظ سے اس امت میں بھی ایک سیلا کا آناضروری تھا جو عین دینی دنیوی تباہی کے وقت میں آوے۔ اور درحقیقت ایسی ہی پیشگوئی مسلمانوں کے اس زمانہ کے لئے جو حضرت مسیح کے زمانہ سے بلحاظ مدت وغیرہ لوازم مشابہ تھا قرآن کریم نے بھی کی ہے جیساکہ وہ فرماتا ہے3 ۱ ؂ ا ی من کل حدب ینسلون الی الاسلام ویفسدون فی ارضہ ویتملکون بلادہ ویجعلون اعزّۃ اھلھا اذلۃ۔ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ قوم نصاریٰ جو فرقہ یاجوج اور ماجوج ہوگا ہریک بلندی سےؔ ممالک اسلام کی طرف دوڑیں گے اور ان کو غلبہ ہوگا اور بلاد اسلام کو وہ دباتے جائیں گے یہاں تک کہ سلطنت اسلام صرف بنام رہ جائے گی جیساکہ آج کل ہے۔ واقعات کے تطابق کو دیکھو کہ کیونکر اسلام کے مصائب اور مسلمانوں کی دینی دنیوی تباہی کا زمانہ یہودیوں کے اس زمانہ سے مل گیا ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھا اور پھر دیکھو کہ قرآن کی پیشگوئی اسلامی سلطنت کے ضعف کے بارے میں اور مخالفوں کے غالب ہونے کی نسبت کیسی اس پیشگوئی سے انطباق پاگئی ہے جو اسرائیلی سلطنت کے زوال کے بارہ میں توریت میں کی گئی تھی۔ ہاں مجدد دین کی بشارت میں توریت کی پیشگوئی اور قرآن کی پیشگوئی میں صرف پیرایہ بیان کا فرق ہے یعنی توریت میں تو اسرائیلی قوت کے ٹوٹنے اور عصا کے جاتے رہنے کے وقت میں جس سے مراد زوال سلطنت تھا سیلا کے آنے کی بشارت