میںؔ پختہ اور حتمی وعدہ کر لیا ہے کہ ضرور وہ اس قدر مدد دینگے اگر ایسا خط* کسی صاحب کی طرف سے مجھ کو پہنچا تو میں اُسکے لئے دُعا کرونگا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بشرطیکہ تقدیر مبرم نہ ہو ضرور خدا تعالیٰ میری دُعا سُنے گا اور مجھ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے گا ۔ اس بات سے نومید مت ہو کہ ہمارے مقاصد بہت پیچیدہ ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے بشرطیکہ ارادہ ازلی اُس کے مخالف نہ ہو۔ اور اگر ایسے صاحبوں کی بہت سی درخواستیں آئیں تو صرف اُنکو اطلاع دی جائے گی جن کے کشود کار کی نسبت از جانب حضرتِ عزّو جل خوشخبری ملے گی۔ اور یہ امور منکرین کیلئے نشان بھی ہونگے اور شاید یہ نشان اس قدر ہو جائیں کہ دریا کی طرح بہنے لگیں ۔ بالآخر میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحتًا کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جاگو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصّہ پاؤ ۔ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی کھلی کھلی آفات ہیں ایک مجدد کھلے کھلے دعویٰ کے ساتھ آتا سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کروگے ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اُسوقت کے علماء کی ناسمجھی اُس کی سدِّ راہ ہوئی آخرجب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا کہ تلخ درخت شیریں پھل نہیں لا سکتا اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتاجو خاصوں کو دی جاتی ہیں ۔ اے لوگو ! اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے ا و راعداء دین کا چاروں طرف سے محاصرہ ہے اور تین ہزار سے زیادہ مجموعہ اعتراضات کا ہوگیا ہے ایسے وقت میں ہمدردی *چاہیئے کہ خط نہایت احتیاط سے بذریعہ رجسٹری سر بمہر آوے اور اس راز کو قبل از وقت فاش نہ کیا جاوے اور اس جگہ بھی پوری امانت کے ساتھ وہ راز مخفی رکھا جائیگا اور اگر بجائے خط کوئی معتبر کسی امیر کا آوے تو یہ امر اور بھی زیادہ مؤثر ہوگا۔ منہ