انؔ بڑے بڑے مقاصد کے لئے کچھ بھی سرمایہ کا بندوبست نہیں اور اگر بعض پُرجوش مردانِ دین* کی ہمت اور اعانت سے کوئی کتاب تالیف ہو کر شائع ہو تو بباعث کم توجہی اور غفلت زمانہ کے وہ کتاب بجز چند نسخوں کے زیادہ فروخت نہیں ہوتے اور اکثر نسخے اس کے یا تو سالہا سال صندوقوں میں بند رہتے ہیں یا ِ للہ مفت تقسیم کئے جاتے ہیں اور اس طرح اشاعتِ ضروریاتِ دین میں بہت سا حرج ہورہا ہے اور گو خدا تعالیٰ اس جماعت کو دن بدن زیادہ کرتا جاتا ہے مگر ابھی تک ایسے دولتمندوں میں سے ہمارے ساتھ کوئی بھی نہیں کہ کوئی حصّہ معتدبہ اس خدمتِ اسلام کا اپنے ذمہ لے لے اور چونکہ یہ عاجز خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر تجدید دین کے لئے آیا ہے اور مجھے اللہ جلّ شانہٗ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اُس نے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دُونگا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ سو اسی بنا پر آج مجھے خیال آیا کہ میں ارباب دولت اور مقدرت کو اپنے کام کی نصرت کے لئے تحریک کروں۔
اور چونکہ یہ دینی مدد کا کام ایک عظیم الشان کام ہے اور انسان اپنے شکوک اور شبہات اور وساوس سے خالی نہیں ہوتا اور بغیر شناخت وہ صدق بھی پیدا نہیں ہوتا جس سے ایسی بڑی مددوں کا حوصلہ ہوسکے اس لئے میں تمام امراء کی خدمت میں بطور عام اعلان کے لکھتا ہوں کہ اگر ان کو بغیر آزمائش ایسی مدد میں تامل ہو تو وہ اپنے بعض مقاصد اور مہمات اور مشکلات کو اس غرض سے میری طرف لکھ بھیجیں کہ تا میں اُن مقاصد کے پورا ہونے کے لئے دعا کروں۔ مگر اس بات کو تصریح سے لکھ بھیجیں کہ وہ مطلب کے پورا ہونے کے وقت کہاں تک ہمیں اسلام کی راہ میں مالی مدد دیں گے اور کیا انہوں نے اپنے دلوں
* پُرجوش مردانِ دین سے مراد اس جگہ اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی ہیں جنہوں نے گویا اپنا تمام مال اسی راہ میں لٹا دیا ہے۔ اور بعد ان کے میرے دلی دوست حکیم فضل الدین صاحب اور نواب محمدعلی خانصاحب کوٹلہ مالیر اور درجہ بدرجہ تمام وہ مخلص دوست ہیں جو اس راہ میں فدا ہورہے ہیں۔ منہ