مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے اور جب کہ قرآن کی جگہ مومنوں کے سینے ٹھہرے تو پھر یہ آیت کہ 33۱؂ بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے محو نہیں کیا جائے گا جس طرح کہ توریت اور انجیل یہود اور نصاریٰ کے سینوں سے محو کی گئی اور گو توریت اور انجیل ان کے ہاتھوں اور ان کے صندوقوں میں تھی لیکن ان کے دلوں سے محو ہو گئی یعنی ان کے دل اس پر قائم نہ رہے اور انہوں نے توریت اور انجیل کو اپنے دلوں میں قائم اور بحال نہ کیا۔ غرض یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ کوئی حصہ تعلیم قرآن کا برباد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روز اوّل سے اس کا پودا دلوں میں جمایا گیا۔ یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ دوم جس طرح پر کہ عقل اس بات کو واجب اور متحتم ٹھہراتی ہے کہ کتب الٰہی کی دائمی تعلیم اور تفہیم کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ انبیاء کی طرح وقتاً فوقتاً ملہم اور مکلم اور صاحب علم لدنی پیدا ہوتے رہیں اسی طرح جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں اور غور کی نِگہ سے اس کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی بآواز بلند یہی فرما رہا ہے کہ روحانی معلموں کا ہمیشہ کے لئے ہونا اس کے ارادہ قدیمہ میں مقرر ہوچکا ہے دیکھو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے333۲؂ الجزو نمبر۱۳ یعنی جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے معجزات سے پیشگویوں سے حقائق سے معارف سے اپنی راستبازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کرکے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔ پس انبیاء کی طرفؔ نسبت دیکر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء من حیث الظل باقی رکھے جاتے ہیں اور خداتعالیٰ ظلی طور پر ہریک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل