ان معلموں کے جو مرتبہ حال پر پہنچ گئے ہوں ہرگز سمجھ نہیں آسکتا اور دنیا ذرہ ذرہ بات پر ٹھوکریں کھاتی ہے پس اگر اسلام میں بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے معلم نہیں آئے جن میں ظلی طور پر نور نبوت تھا تو گویا خدا تعالیٰ نے عمدً ا قرآن کو ضائع کیا کہ اس کے حقیقی اور واقعی طور پر سمجھنے والے بہت جلد دنیا سے اٹھا لئے مگر یہ بات اس کے وعدہ کے بر خلاف ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3 ۱؂ یعنی ہم نے ہی قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ اب میں نہیں سمجھ سکتاکہ اگر قرآن کے سمجھنے والے ہی باقی نہ رہے اور اس پر یقینی اورحالی طورپر ایمان لانے والے زاویہ عدم میں مختفی ہوگئے تو پھر قرآن کی حفاظت کیا ہوئی۔ کیا حفاظت سے یہ حفاظت مراد ہے کہ قرآن بہت سے خوشخط نسخوں میں تحریر ہوکر قیامت تک صندوقوں میں بند رہے گا جیسے بعض مدفون خزانے گو کسی کے کام نہیں آتے مگر زمین کے نیچے محفوظ پڑے رہتے ہیں۔ کیا کوئی سمجھ سکتاہے کہ اس آیت سے خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے۔ اگر یہی منشاء ہے تو ایسی حفاظت کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ یہ تو ہنسی کی بات ہے اور ایسی حفاظت کا منہ پر لانا دشمنوں سے ٹھٹھا کرانا ہے کیونکہ جبکہ علت غائی مفقود ہو تو ظاہری حفاظت سے کیا فائدہ ممکن ہے کہ کسی گڑھے میں کوئی نسخہ انجیل یا توریت کا بھی ایسا ہی محفوظ پڑا ہو اور دنیا میں تو ہزارہا کتابیں اسی قسم کی پائی جاتی ہیں کہ جو یقینی طورپر بغیر کسی کمی بیشی کے کسی مؤلف کی تالیف سمجھی گئی ہیں تو اس میں کمال کیا ہوا اور امت کو خصوصیت کے ساتھ فائدہ کیا پہنچا گو اس سے انکار نہیں کہ قرآن کی حفاظت ظاہری بھی دنیا کی تمام کتابوں سے بڑھ کر ہے اور خارق عادت بھی لیکن خداتعالیٰ جس کی روحانی امور پر نظر ہے ہرگز اس کی ذات کی نسبت یہ گمان نہیں کرسکتے کہ اتنی حفاظت سے مراد صرف الفاظ اور حروف کا محفوظ رکھنا ہی مراد لیا ہے حالانکہ ذکر کا لفظ بھی صریح گواہی دے رہا ہے کہ قرآن بحیثیت ذکر ہونے کے قیامت تک محفوظ رہے گا اور اس کے حقیقی ذاکر ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور اس پر ایک اور آیت بھی بین قرینہ ہے اورؔ وہ یہ ہے3 ۲؂ یعنی قرآن آیات بینات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ