بلا توقف یہ نتیجہ پَیدا کیا کہ بجُز قرآن کریم کے اور جسقدر مسلمات اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیادشکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصّہ نہیں ۔ لیکن درحقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھوکہ ہے جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہل اسلام کے پاس بجُز قرآن کریم کے جس قدر اور منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اورجُھوٹ اورافترا اور ظنون اور اوہام کا ہے تو پھر شائد اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصّہ باقی رہ جائے گا وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔مثلًا یہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سُنت ہیں اورپھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چاراور دو سُنّت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار۔ ایسا ہی زکوٰۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں۔ اسی طرح ہزار ہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں اور ایسی مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دیناہے۔ علاوہ اس کے اسلامی تاریخ کا مبدء اورمنبع یہی احادیث ہی ہیں اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پرنہیں ماننا چاہیئے کہ درحقیقت حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اورحضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے جن کو بعد وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی ترتیب سے خلافت ملی اور اسی ترتیب سے ان کی موت بھی ہوئی کیونکہ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار نہ کیاجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان بزرگوں کے وجود کو یقینی کہہ سکیں اور اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام نام فرضی ہی ہوں اور دراصل نہ کوئی ابو بکر گذرا ہونہ عمر نہ عثمان نہ علی کیونکہ بقول میاں عطا محمد معترض یہ سب احادیث احاد ہیں اور قرآن میں ان ناموں کا کہیں ذکر نہیں پھر بموجب اس اصول کے کیونکر تسلیم کی جائیں۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ؔ والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ اور دادا کا نام عبد المطلب ہونا اور پھر آنحضرت صلعم کی بیویوں میں سے ایک کا خدیجہ اور ایک کا نام عائشہ اور ایک کا نام حفصہ رضی اللہ عنہن ہونا اور دایہ کا نام حلیمہ ہونا ۔ اور غارحرا میں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادت کرنا اور بعض صحابہ کاحبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد بعثت دس۱۰ سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام