سو ؔ اوّل ہم ان ہر سہ تنقیحوں میں سے پہلی تنقیح کو بیان کرتے ہیں سو واضح ہو کہ اِس امر سے دُنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریبًا تمام مسلمانوں کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہو گا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اورترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلّی کے لئے کافی ہے اور بالضرورت اس قدر مشترک پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ایک مسیح موعود آنے والا ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ اکثر ہر یک حدیث اپنی ذات میں مرتبہ احاد سے زیادہ نہیں مگر اس میں کچھ بھی کلام نہیں کہ جس قدر طرق متفرقہ کی رُو سے احادیث نبویہ اس بارے میں مُدوّن ہوچکی ہیں اُن سب کو یک جائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے بلاشبہ اِس قدر قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے اور پھر جب ہم ان احادیث کے ساتھ جواہل سنت وجماعت کے ہاتھ میں ہیں ان احادیث کو بھی ملاتے ہیں جو دوسرے فرقے اسلام کے مثلًا شیعہ وغیرہ ان پر بھروسہ رکھتے ہیں تو اور بھی اس تواتر کی قوت اور طاقت ثابت ہو تی ہے اورپھر اسکے ساتھ جب صدہا کتابیں متصوفین کی دیکھی جاتی ہیں تو وہ بھی اسی کی شہادت دے رہی ہیں۔ پھر بعد اسکے جب ہم بیرونی طورپر اہل کتاب یعنی نصاریٰ کی کتابیں دیکھتے ہیں تو یہ خبر اُن سے بھی ملتی ہے اورساتھ ہی حضرت مسیح ؑ کے اِس فیصلہ سے جو ایلیا کے آسمان سے نازل ہونیکے بارہ میں ہے یہ بھی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی خبریں کبھی حقیقت پر محمول نہیں ہوتیں لیکن یہ خبرمسیح موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہو گی کہ اِس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہیں ہونگی۔ ہاں یہ بات اُس شخص کو سمجھانا مشکل ہے کہ جو اسلامی کتابوں سے بالکل بیخبر ہے اور درحقیقت ایسے اعتراض کرنے والے اپنی بد قسمتی کی وجہ سے کچھ ایسے بے خبر ہوتے ہیں کہ اُنھیں یہ ؔ بصیرت حاصل ہی نہیں ہوتی کہ فلاں واقعہ کس قدر قوّت اور مضبوطی کے ساتھ اپنا ثبوت رکھتا ہے پس ایسا ہی صاحب مُعترض نے کسی سے سن لیا ہے کہ احادیث اکثر احاد کے مرتبہ پر ہیں اور اس سے