اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت اور نبوت کی یقینی حقیقت جو ہمیشہ ہر ایک زمانہ میں منکرین وحی کو ساکت کرسکے اُسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے کہ سلسلہ وحی برنگ محدثیت ہمیشہ کیلئے جاری رہے ۔ سو اُس نے ایسا ہی کیا ۔ محدّث وہ لوگ ہیں جو شرف مکالمہ الٰہی سے مشرف بقیہ حاشیہ۔ اگرچہ شعراء وغیرہ کو بھی سوچنے کے بعد القا ہوتا ہے مگر اس وحی کو اس سے مناسبت دینا سخت بے تمیزی ہے کیونکہ وہ القا خوض اور فکر کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور ہوش و حواس کی قائمی اور انسانیت کی حد میں ہونے کی حالت میں ظہور کرتا ہے لیکن یہ القا صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کے تصرف میں آجاتا ہے اور اپناہوش اور اپنا خوض کسی طور سے اُس میں دخل نہیں رکھتا اُسوقت زبان ایسی معلوم ہوتی ہے کہ گویا یہ اپنی زبان نہیں اور ایک دوسری زبردست طاقت اس سے کام لے رہی ہے ۔ اور یہ صورت جو میں نے بیان کی ہے اس سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ فطرتی سلسلہ کیا چیز ہے اور آسمان سے کیا نازل ہوتا ہے؟ بالآخر میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس منحوس نیچریت کو مسلمانوں کے دلوں سے ایسا دھو دیوے کہ کوئی داغ اس کا باقی نہ رہے کیونکہ اسلام کی برکتیں جس آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں وہ آنکھ تب تک نہیں کھلے گی جب تک کہ یہ دُخان آگے سے دُور اور دفع نہیں ہوگا ۔ اے نیچر شوخ اِین چہ ایذاست از دستِ تو فتنہ ہر طرف خاست آن کس کہ رہِ کَجَت پسندِید دیگر نہ گُزید جانبِ راست لیکن چو زِ غور و فکر بِینیم از ماست مصیبتے کہ بر ما است متروک شد است درسِ فرقان زان روز ہجوم این بلاہا است نیچر نہ باصلِ خویش بَد بُود دینِ گم شُد و نُورِ عقل ہا کاست برقطرہ نگون شُدند یک بار رو تافتہ زان طرف کہ دریا است برجنت و حَشَر و نَشَر خَندند کین قصّۂ بعید از خِرَدہا است چوں ذِکرِ فرشتگان بیائد گوید خلافِ عقلِ دانا است اے سیّدِ سرگروہ این قوم ہُشدار کہ پائے تو نہ بر جا است پِیرانہَ سر ایں چہ در سر افتاد رو توبہ کُن ایں نہ راہِ تقواست تَرسم کہ بدینِ قیاس یک روز گوئی کہ خدا خیال بیجا است اے خواجہ برو کہ فکرِ انسان درکارِ خدا ز نوعِ سودا است آخر ز قیاس ہا چہ خیزد بنشین کہ نہ جائے شور و غوغا است اے بندۂ بصیرت از خدا خواہ اسرار خدا نہ خوان یغما است