ذخیرہ کثیر ثبوتوں کا نظر آتا ہے ایک طرف عقل سلیم انسان کی اس اعتقاد کو دھکے دے رہی ہے اور ایک طرف قیاس استقرائی شہادت دے رہا ہے کہ اب تک اس کی نظیر بجز دعویٰ متنازعہ فیہ کے نہیں پائی گئی اور ایک طرف قرآن کریم جو بے شمار دلائل سے اپنی حقانیت ثابت کرتا ہے اس سے انکاری ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ 33333۱؂ (س۱۷ر۱۶)یعنی عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے ایسی چیز کی جس کی خدائی پر اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان نہیں بھیجا یعنے نبّوت پر تو نشان ہوتے ہی ہیں مگر وُہ خدائی کے کام میں نہیں آسکتے اور پھر فرماتا ہے کہ اس عقیدہ کیلئے اُنکے پاس کوئی علم بھی نہیں یعنے کوئی ایسی معقولی دلائل بھی نہیں ہے جن سے کوئی عقیدہ پختہ ہو سکے اور پھر فرماتا ہے ۔3۔3۔33333۔3۲؂ (س۱۶ر۹)اور کہتے ہیں کہ رحمان نے حضرت مسیح کو بیٹا بنا لیا ہے یہ تم نے اے عیسائیو ! ایک چیز بھاری کا دعویٰ کیا ۔ نزدیک ہے ، جو اِس سے آسمان و زمین پھٹ جاویں اور پہاڑ کانپنے لگیں کہ تم انسان کو خدا بناتے ہو پھر بعد اسکے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اِس خدا بنانے میں یہودی لوگ جو اوّل وارث توریت کے تھے جنکے عہد عتیق کی پیشگوئیاں سراسر غلط فہمی کی وجہ سے پیش کیجاتی ہیں کیا کبھی اُنہوں نے جو اپنی کتابوں کو روز تلاوت کرنیوالے تھے اور اُن پر غور کرنیوالے تھے اور حضرت مسیح بھی اُن کی تصدیق کرتے تھے کہ یہ کتابوں کا مطلب خوب سمجھتے ہیں اُن کی باتوں کو مانو کیا کبھی اُنہوں نے ان بہت سی پیش کردہ پیشگو ئیوں میں سے ایک کے ساتھ اتفاق کرکے اقرارکیا کہ ہاں یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود کو خدا بتاتی ہے ۔ اور آنیوالاؔ مسیح انسان نہیں بلکہ خدا ہوگا ۔ تو اِس بات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ ہر ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح سے انکو کچھ بُخل اور بغض پیدا ہوتا تو اسوقت پیدا ہوتا جب حضرت مسیح تشریف لائے ۔ پہلے تو وہ لوگ بڑی محبت سے اور بڑی غور سے انصاف و آزادی سے اِن پیشگوئیوں کو دیکھا کرتے تھے اور ہر روز ان کتابوں کی تلاوت کرتے تھے اور تفسیریں لکھتے تھے ۔ پھر کیا غضب کی بات ہے کہ یہ مطلب ان سے بالکل پوشیدہ رہا۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ