موجود ہیں۔ پھر کیا وجہ کہ آپ کا مذہب بے نشان ہوگیا اور کوئی سچائی کے نشان اس میں باقی نہیں رہے پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ نے جو نشانی دکھلانے سے ایک جگہ انکار کیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے دکھلا چکے تھے میں کہتا ہوں کہ یہ آپ کا بیان صحیح نہیں ہے اگر وہ دکھلا چکتے تو اس کا حوالہ دیتے اور نیز میں یہ بھی کہتا ہوں کہ میں بھی تو آپ لوگوں کو دکھلا چکا ہوں۔
کیا آپ کو پرچہ نور افشاں ۱۰۔ مئی ۱۸۸۸ء یاد نہیں ہے جس میں بڑے دعوے کے ساتھ صاحب نور افشاں نے میری پیشگوئی کا انکار کر کے اس پرچہ میں مخالفانہ مضمون چھپوایا تھا اور وہ پیشگوئی بھی نقل کر دی تھی تو پھر وہ پیشگوئی اپنی میعاد میں پوری ہوگئی۔
اور آپ اقرار کرچکے ہیں کہ پیشگوئی بھی خوارق میں داخل ہے تو ہم نے تو ایک نشان ایسے طور پر آپ کو ثابت کر دیا کہ نور افشاں میں درج ہے۔ پھر اس کے بعد اگر آپ کی طرف سے کوئی حجت ہو تو وہ اسی حجت کے ہم رنگ ہوگی جو یہودیوں نے کی تھی جس کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے آپ سن چکے ہیں مجھے کہنے کی حاجت نہیں۔ مگر میںآپ کے اقرار کے موافق کہ آپ نے مسلمان ہونے کا اقرار کیا تھا اس بات کے سننے کے لئے بہت مشتاق ہوں کہ اس پیشگوئی کو دیکھ کر آپ نے کس قدر حصہ اسلام کا قبول کر لیا ہے اور میں تو آئندہ بھی تیار ہوں۔ صرف درخواست اور تحریر شرائط کی دیر ہے اور آپ کا یہ فرمانا کہ گویا حضرت مسیحؑ کے حق میں َ میں نے گالی کا لفظ استعمال کرکے ایک گو نہ بے ادبی کی ہے۔ یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ میں حضرت مسیح کو ایک سچا نبی اور برگزیدہ اور خدا تعالیٰ کا ایک پیارا بندہ سمجھتا ہوں وہ تو ایک الزامی جواب آپ ہی کے مشرب کے موافق تھا اور آپ ہی پروہ الزام عائد ہوتا ہے نہ کہ مجھ پر۔ (باقی آئندہ)
دستخط بحروف انگریزی
دستخط بحروف انگریزی
غلام قادر فصیح (پریزیڈنٹ)
ہنری مارٹن کلارک (پریزیڈنٹ)
ازجانب اہل اسلام
ازجانب عیسائی صاحبان