ہوگئیں اور صاف ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیحؑ اپنے اقوال کے ذریعہ اور اپنے افعال کے ذریعہ سے اپنے تئیں عاجز ہی ٹھہراتے ہیں اور خدائی کی کوئی بھی صفت ان میں نہیں ایک عاجز انسان ہیں۔ ہاں نبی اللہ بے شک ہیں۔ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ۱ ؂ یعنی کیا تم نے دیکھاکہ جن لوگوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ٹھہرا رہے ہو انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا اور یا ان کو آسمان کی پیدائش میں کوئی شراکت ہے۔ اگر اس کا ثبوت تمہارے پاس ہے اور کوئی ایسی کتاب ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ فلاں فلاں چیز تمہارے معبود نے پیدا کی ہے تو لاؤ وہ کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یونہی کوئی شخص قادر مطلق کا نام رکھالے اور قدت کا کوئی نمونہ پیش نہ کرے اور خالق کہلائے اور خالقیت کا کوئی نمونہ ظاہر نہ کرے۔ اور پھر فرماتا ہے کہ اس شخص سے زیادہ تر گمراہ کون شخص ہے کہ ایسے شخص کو خدا کرکے پکارتا ہے جو اس کو قیامت تک جواب نہیں دے سکتا۔ بلکہ اس کے پکارنے سے بھی غافل ہے چہ جائیکہ اس کو جواب دے سکے۔ اب اس مقام پر ایک سچی گواہی میں دینا چاہتا ہوں جو میرے پر فرض ہے اور وہ یہ ہے جو میں اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں کہ جو بگفتن قادر مطلق نہیں۔ بلکہ حقیقی اور واقعی طور پر قادر مطلق ہے اور مجھے اس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے خاص مکالمہ سے شرف بخشاہے اور مجھے اطلاع دیدی ہے کہ میں جو سچا اور کامل خدا ہوں میں ہرایک مقابلہ میں جو روحانی برکات اور