کا اقرار کیاجیسا کہ جب قیامت کا پتہ ان سے پوچھا گیا تو آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر فرمائی اور کہا کہ بجز اللہ تعالیٰ کے قیامت کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ علم روح کی صفات میں سے ہے نہ جسم کی صفات میں سے۔ اگر ان میں اللہ تعالیٰ کی روح تھی اور یہ خود اللہ تعالیٰ ہی تھے تو لاعلمی کے اقرار کی کیا وجہ۔ کیا خدا تعالیٰ بعد علم کے نادانؔ بھی ہوجایا کرتا ہے۔ پھر متی ۱۹ باب ۱۶ میں لکھا ہے۔ ’’دیکھو ایک نے آکے اسے (یعنی مسیح سے) کہا اے نیک استاد میں کونسا نیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔ اس نے اسے کہاتو کیوں نیک مجھے کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ پھر متی ۲۰۲۰ میں لکھا ہے کہ زبدی کے بیٹوں کی ماں نے اپنے بیٹوں کے حضرت مسیح کے دائیں بائیں بیٹھنے کی درخواست کی تو فرمایا اس میں میرا اختیار نہیں۔ اب فرمائیے قادر مطلق ہونا کہاں گیا۔ قادر مطلق بھی کبھی بے اختیار ہو جایا کرتا ہے اور جب کہ اس قدر تعارض صفات میں واقع ہوگیا کہ حضرات حواری تو آپ کو قادر مطلق خیال کرتے ہیں اور آپ قادر مطلق ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ تو ان پیش کردہ پیشگوئیوں کی کیا عزت اور کیا وقعت باقی رہی جس کے لئے یہ پیش کی جاتی ہیں وہی انکار کرتا ہے کہ میں قادر مطلق نہیں یہ خوب بات ہے۔ پھر متی ۳۸ ۲۶میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ’’مسیح نے تمام رات اپنے بچنے کے لئے دعا کی اور نہایت غمگین اور دلگیر ہوکر اور رو رو کر اللہ جلّ شانہٗ سے التماس کی کہ اگر ہوسکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے اور نہ صرف آپ بلکہ اپنے حواریوں سے بھی اپنے لئے دعا کرائی جیسے عام انسانوں میں جب کسی پرکوئی مصیبت پڑتی ہے اکثر مسجدوں وغیرہ میں اپنے لئے دعاکرایا کرتے ہیں لیکن تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ خواہ نخواہ قادر مطلق کی صفت ان پر تھوپی جاتی ہے اور ان کے کاموں کو اقتداری سمجھا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ دعا منظور نہ ہوئی اور جو تقدیر میں لکھا تھا وہ ہو ہی گیا۔ اب دیکھو اگر وہ قادر مطلق ہوتے تو چاہیئے تھا کہ یہ اقتدار اور یہ قدرت کاملہ پہلے ان کو اپنے نفس کے لئے کام آتا۔ جب اپنے نفس کے لئے کام نہ آیا تو غیروں کو ان سے توقع رکھنا ایک طمع خام ہے۔ اب ہمارے اس بیان سے وہ تمام پیشگوئیاں جو ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب نے پیش کی ہیں رد