کیاؔ جائے تو ڈپٹی صاحب کمال کے لفظ پر گرفت فرماتے ہیں کہ کمال کیا چیز ہے کیا سنار اور لوہار کا کمال بلکہ راہ نجات دکھلانے کا کمال ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ راہ نجات دکھلانے کا دعویٰ اس صورت میں اوراس حالت میں کمال متصور ہوگا کہ جب اس کو ثابت کرکے دکھلادیا جاوے اور پہلے اس سے اس بات کا ذکر کرنا بھی میرے نزدیک بے محل ہے۔ اب واضح ہو کہ اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعویٰ فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۱؂ الخ کہ آج میں نے تمہارے لئے دین تمہارا کامل کیااور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا۔ اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لئے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں فرماتا ہے ۲؂ (س ۱۳۔ ر ۱۶)کیا تو نے نہیں دیکھا کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنی پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تالوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں۔ اور ناپاک کلمہ کی مثال اس ناپاک درخت کی ہے جو زمین پرسے اُکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرار و ثبات نہیں۔ سو اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلّل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتا ہے یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مدد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہو۔ اب دیکھئے کہ ڈپٹی صاحب موصوف نے آیت اَکْمَلْتُ لَکُمْ کی تشریح میں صرف اتنا فرمایاتھا کہ یہ غالباً امورمعاشرت کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ڈپٹی صاحب موصوف اس بات کوتسلیم کرچکے ہیں کہ کسی آیت کے وہ معنے کرنے چاہئے کہ الہامی کتاب آپ کرے اورالہامی کتاب کی شرح