چوؔ تھاپرچہ
مباحثہ ۲۵۔ مئی ۱۸۹۳ء
روئداد
آج چھ بجے ۸ منٹ پر میرزا صاحب نے اپنا جواب لکھانا شروع کیا اور سات بجے ۸ منٹ پر ختم کیا۔ اس موقعہ پر یہ تحریک پیش ہوئی اور باتفاق رائے پیش ہوئی کہ چونکہ مضمون سنائے جانے کے وقت کاتب تحریروں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں اس لئے ان کی روک ٹوک کی وجہ سے مضمون بے لطف ہوجاتا ہے اور سامعین کو مزہ نہیں آتا۔ بنا براں ایسا ہونا چاہئے کہ کاتب پیشتر مضمون سنائے جانے کے باہم تحریروں کا مقابلہ کرلیا کریں۔ پھر ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب نے ۷ بجے ۵۴ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور آٹھ بجے ۵۴ منٹ پر ختم کیا اور بعد مقابلہ بلند آواز سے سنایا گیا۔ پھر مرزا صاحب نے ۹ بجے ۲۴ منٹ پر شروع کیا اور ۱۰ بجے ۱۲ ۲۴ منٹ پر ختم ہوا اور بلند آواز سے سنایا گیا ۔ بعدازاں فریقین کی تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط ہوئے اور مصدقہ تحریریں فریقین کو دی گئیں اور جلسہ برخاست ہوا۔
دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح
پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام
۲۵ ؍مئی ۱۸۹۳ ء وقت ۶ بجے ۸ منٹ
بیان حضرت مرزا صاحب
ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب نے میرے پہلے بیان پر جو میں نے کتاب آسمانی کے لئے بطور ضروری اعجازی علامت کے یہ لکھا تھا کہ دونوں کتابیں انجیل اور قرآن شریف کا ان کے کمالات ذاتیہ میں مقابلہ