مانند ہوگیا- اس آیت میں جس جملہ کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم میں سے ایک کی مانند ہوگیا (عبرانی میں کا حد ممنو ہے) اس جملے متکلم مع الغیر کو دیکھ کر یہودیوں نے یہ معنے کئے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس موقعہ پر فرشتگان کو اپنی معیت میں لیتا ہے اور سرسید احمد خاں بہادر نے یہ لکھا ہے کہ غیر اس جملہ میں وہ آدم ہاطبقہ ماقبل آدم معروفہ کے ہیں جو گناہ کرکے تباہ ہوگئے۔ اور کلمہ لو ممنومیں متکلم مع الغیر نہیں بلکہ جمع غائب ہے۔ مراد ان دونوں صاحبوں کا یہ ہے کہ کثرت فی الوحدت کی تعلیم ثابت نہ ہونے پائے۔ دوم۔ اب ہم ان صاحبوں سے سوال ذیل رکھتے ہیں۔ اول یہودیوں سے یہ کہ آپ کے فرشتوں کا مرجوع متن کلام میں کہاں ہے۔ کیا صیغہ ہم کا اسم ضمیر نہیں؟ اور کیا اسم ضمیر کے لئے مرجوع کاہونا اس کے قرب میں ضرور نہیں؟ اور اگر کوئی کلام بغیرمرجوع کی نشاندہی کے درخود نہ ہو تو کیا اس کو مبہم اور مخبط نہیں کہتے؟ جیسا کہ اگر میں کسی سے کہوں کہ وہ بات یوں تھی اور قبل اور مابعد میں اس کا ذکر نہ ہو کہ کونسی بات۔ تو کیا یہ خبط کلامی نہیں؟ پس جب فرشتگان کا ذکر معیت میں کرتے ہیں تو ان کو متن ہی میں ان فرشتوں کو دکھانا چاہیئے۔ دوم اگر فرشتے ہی اس کے مصداق ہوویں تو ضرور ہے کہ بدی کا علم ان کا ذاتی ہو یا کسبی۔ اگر ذاتی ہو تو وہ مخلوق نہیں ہوسکتے کیونکہ علم ذاتی قائم بالذات کا ہوتا ہے اور اگر کسبی ہو تو یہ کسب ان کو ناپاک کر دیتا ہے تو پس وہ صحبت اقدس خالق کے لائق کیونکر ہوئی جو معیت میں اس کے لئے جاویں۔ سرسیدصاحب سے اول سوال ہمارا وہی ہے کہ متن میں مرجوع ان آدم ہاکا جو ماقبل آدم معروف کے متصور ہیں کہاں ہیں۔ فی متن تو درکنار جناب کے جیالوجی میں بھی کہاں ہے کہ جس کا فخر جناب کرتے ہوں ماسوا اس کے اگر جیالوجی سے گذر کر کسی اور سائینس میں ہووے تو اس کا پتہ دیویں۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ ہرگز ایسا پتہ نہ دے سکیں گے اور نہ اس عہدہ برائی سے یہودی باہر آسکتے ہیں۔ مگر مسیحیوں کا منہ بندکرنے کے لئے خیالات باطلہ پیش کرتے ہیں اور اس سے صاف تو فقرہ کیا ہوسکتا ہے اور کیا تاویل ایسے فقرہ کی ہوسکتی ہے کہ دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہوگیا۔ لغت و اصطلاح منطق و معانی صرف و نحو اِن سارے معیاروں کے آگے ہم اس فقرہ کو رکھتے ہیں۔ سر سید احمد خاں بہادرنےؔ جو الوہیم میں جمع تعظیمی بیان کی۔ حضرت ہم کو کہیں سے دکھلا دیویں کہ نیچر میں یاواقعات میں اسماء خاص میں