دوم۔ انجیل اپنے تئیں نجات کے ازلی بھید کا کاشف کہتی ہے۔ (رومی ۱۶ باب ۲۵و۲۶) (پطرس کا پہلا خط ۱۔ باب ۲۰)۔ سوم۔ انجیل اپنے تئیں خدا کی قدرت کہتی ہے۔ (رومی ایک باب ۱۶)۔ چہارم۔ انجیل اپنے تئیں زندگی اور بقا کی روشنی کرنے والی کہتی ہے (طمطاؤس کا دوسرا خط ۱ باب ۱۶) پنجم۔ انجیل انسانی حکمت کا نہیں لیکن اپنے تئیں خدا کی روح کا فرمایا ہوا کلام فرماتی ہے۔ (قرنتیوں کے نام کا پہلا خط ۲ باب ۱۲و۱۳ و پطرس کا دوسرا خط پہلا باب ۱۹) ششم۔ اس انجیل کے مقابل میں ہر ایک انجیل ہیچ ہے (گلاتی کے نام کا خط ۱ باب۸) پس یہ وہ امور ہیں کہ جو کلام اللہ کی فضیلت و کاملیت و خوبی و فیض ر سانی پر دال ہیں نہ وہ امور جو معاشرت کے متعلق ہیں کہ جن کی نسبت حکیم و ڈاکٹر بھی انسان کو واجبی شرح بتا سکتے ہیں۔ جناب نے جو فرمایا قرآن میں لکھا ہے اکملت لکم دینکم غالباً بروئے متن کلام قرآن متعلق معاشرت کے ہے کہ جس میں حِل و حُرمت کا ذکر ہے۔ بجواب اعتراضات ۲۴۔ مئی ۱۸۹۳ ؁ء اوّل۔ استقراء کے معنے ہم سمجھ چکے ہیں کہ معمول اور گذشتہ پیوستہ میں جو تجربہ قانون بتاتا ہے اس کو استقراء کہتے ہیں۔ اس کے بارہ میں جناب مرزا صاحب کا فرمانا درست ہے کہ اگر کچھ استثناء اس کا ہو تو امکان محض اس کا ثابت کرنا کافی نہیں ہے مگر واقعی اس کا ثابت کرنا ضروری ہے۔ سو اس کے بارہ میں عرض اتنی ہے کہ مقدمہ مسیح کا بالکل استثنائی ہے جس کی واسطے ہم نے آیات کلام الٰہی پیش کی ہیں۔ مزید برآں ہم یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ کثرت فی الوحدت عہد عتیق میں موجود ہے اگر وہ موجود نہ ہوتی تو یہودی صادق ٹھہر سکتے تھے اور چونکہ یہ امر وہاں موجود ہے تو ان کو کچھ عذر نہ ہونا چاہئے۔ پس میں بطور مثال دو نظیرؔ یں پیش کرتا ہوں۔ اول یہ کہ پیدائش ۱باب ۲۶ میں لکھا ہے و یومر الوھیم نعشا آدام سلمنوقد میتونو یعنی کہا الوہیم خدا نے ہم بناویں آدم کو اوپر صورتوں اپنیوں کے اور اوپر شکلوں اپنیوں کے۔ دوم پیدائش۳۲۲میں ہے یہوا الوہیم نے کہا دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی