کہؔ جو نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے اور نہ قرآن کریم میں وارد ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محدثات ہی دیکھو جن کا ایک رسالہ بنتا ہے۔ اسلام کیلئے ہجری تاریخ انہوں نے مقرر کی اور شہروں کی حفاظت کیلئے کوتوال مقرر کئے اور بیت المال کیلئے ایک باضابطہ دفتر تجویز کیا۔ جنگی فوج کیلئے قواعد رخصت اور حاضری ٹھہرائے اور ان کے لڑنے کے دستور مقرر کئے اور مقدمات مال وغیرہ کے رجوع کیلئے خاص خاص ہدایتیں مرتب کیں اور حفاظت رعایا کیلئے بہت سے قواعد اپنی طرف سے تجویز کرکے شائع کئے اور خود کبھی کبھی اپنے عہد خلافت میں پوشیدہ طور پر رات کو پھرنا اور رعایا کا حال اس طرح سے معلوم کرنا اپنا خاص کام ٹھہرایا لیکن کوئی ایسا نیا کام اس عاجز نے تو نہیں کیا صرف طلب علم اور مشورہ امداد اسلام اور ملاقات اخوان کے لئے یہ جلسہ تجویز کیا۔ رہا مکان کا بنانا تو اگر کوئی مکان بہ نیّت مہمانداری اور بہ نیت آرام ہر یک صادر و وارد بنانا حرام ہے تو اس پر کوئی حدیث یا آیت پیش کرنی چاہیئے اور اخویم حکیم نور الدین صاحب نے کیا گناہ کیا کہ محض للہ اس سلسلہ کی جماعت کیلئے ایک مکان بنوا دیا جو شخص اپنی تمام طاقت اور اپنے مال عزیز سے دین کی خدمت کر رہا ہے اس کو جائے اعتراض ٹھہرانا کس قسم کی ایمانداری ہے۔ اے حضرات مرنے کے بعد معلوم ہوگا ذرا صبر کرو وہ وقت آتا ہے کہ ان سب منہ زوریوں سے سوال کئے جاؤ گے۔ آپ لوگ ہمیشہ یہ حدیث پڑھتے ہیں کہ جس نے اپنے وقت کے امام کو شناخت نہ کیا اور مر گیا وہ جاہلیت کی موت پر مرا لیکن اس کی آپ کو کچھ بھی پرواہ نہیں کہ ایک شخص عین وقت پر یعنے چودھویں صدی کے سر پر آیا اور نہ صرف چودھویں صدی بلکہ عین ضلالت کے وقت اور عیسائیت اور فلسفہ کے غلبہ میں اس نے ظہور کیا اور بتلایا کہ میں امام وقت ہوں اور آپ لوگ اس کے منکر ہوگئے اور اس کا نام کافر اور دجال رکھا اور اپنے بد خاتمہ سے ذرا خوف نہ کیا اور جاہلیت پر مرنا پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی کہ تم پنج وقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو کہ33 ۱ یعنے اے ہمارے خدا اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا وہ کون ہیں۔ نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔ اس دعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پاؤ اس کے سایہ صحبت میں آجاؤ۔ اور اس سے فیض حاصل کرو لیکن اس زمانہ کے مولویوں نے اس آیت پر خوب عمل کیا۔ آفرین آفرین میں ان کو کس سے تشبیہہ دوں وہ اس اندھے سے مشابہ ہیں جو دوسروں کی آنکھوں کا علاج کرنے کیلئے بہت زور کے ساتھ لاف و گذاف مارتا ہے اور اپنی نابینائی سے غافل ہے۔
بالآخر میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ اگر مولوی رحیم بخش صاحب اب بھی اس فتویٰ سے رجوع نہ کریں تو میں ان کو اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر وہ طالب حق ہیں تو اس بات کے تصفیہ کیلئے میرے پاس قادیان میں آجائیں میں ان کی آمد و رفت کا خرچ دے دوں گا اور ان پر کتابیں کھول کر اور قرآن اور حدیث دکھلا کر ثابت کر دوں گا کہ یہ فتویٰ ان کا سراسر باطل اور شیطانی اغواء سے ہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔
(۱۷دسمبر ۱۸۹۲ ء) خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور